اردو ادب اور جدید غزل کا ایک چمکتا ہوا ستارہ اب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ہے۔ اردو کے انتہائی مقبول اور معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی دنیا بھر میں موجود اردو شعر و ادب کے مداحوں، ادیبوں اور پرستاروں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اردو ادب میں ان کی لازوال خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں ملک کے باوقار شہری اعزاز 'پدم شری' سے نوازا تھا۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر:
ڈاکٹر بشیر بدر 15 فروری 1935 کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم اور پی ایچ ڈی کی ڈگری برصغیر کی عظیم درسگاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اے ایم یو (AMU) میں ہی بطور اردو پروفیسر اپنے تدریسی فرائض انجام دیے اور نئی نسل کی علمی آبیاری کی۔
بشیر بدر کی شاعری کی خاصیت:
بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سادگی اور فطری پن ہے۔ انہوں نے غزل میں ایسے روزمرہ کے الفاظ کا خوبصورت استعمال کیا جنہیں روایتی اردو شاعری میں جگہ نہیں ملتی تھی۔انہوں نے کئی مشہور کتابیں لکھیں، جن میں ’امکان‘، ’آہٹیں‘، ’کلیاتِ بشیر بدر‘ اور ’اجالے اپنی یادوں کے‘ شامل ہیں۔
جب میرٹھ کے دنگوں میں آشیاں جل گیا:
محبت، امن اور انسانیت کا پیغام دینے والے بشیر بدر کو خود زندگی میں نفرت کے بدترین دور سے گزرنا پڑا۔ سال 1987 میں میرٹھ کے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات کے دوران شرپسندوں نے ان کا گھر نذرِ آتش کر دیا تھا۔ اس المناک حادثے میں بشیر بدر کا گھر ہی نہیں جلا، بلکہ ان کی برسوں کی محنت، کئی تاریخی غیر مطبوعہ تخلیقات اور نایاب ڈائریاں ہمیشہ کے لیے راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ اس دلخراش واقعے کے بعد وہ میرٹھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے بھوپال (مدھیہ پردیش) منتقل ہو گئے اور وہیں سکونت اختیار کر لی ۔
بشیر بدر کا یہ شعر ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا:
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے