Wednesday, September 02, 2026 | 18 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکی حملوں کے بعد ایران کا جوابی وار، اردن میں 13 میزائل داغنے کا دعویٰ

امریکی حملوں کے بعد ایران کا جوابی وار، اردن میں 13 میزائل داغنے کا دعویٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 02, 2026 IST

امریکی حملوں کے بعد ایران کا جوابی وار، اردن میں 13 میزائل داغنے کا دعویٰ
امریکی افواج کی جانب سے ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ کور یعنی آئی آر جی سی کے ٹھکانوں پر نئے حملوں کے بعد ایران نے جوابی کاروائی شروع کر دی ہے۔ ایران نے بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ یہ کاروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین میں بھی امریکی فوجی تنصیبات کے قریب بڑے ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
 

اردن نے ایرانی میزائل روکے

اردن کے حکام کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے 13 بیلسٹک میزائلوں میں سے 10 کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا، جبکہ باقی تین میزائل آبادی والے علاقوں سے دور جا کر گرے۔ حکام کے مطابق میزائلوں کو روکنے کے دوران گرے ہوئے ملبے سے بڑے پیمانے پر نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب، ایران کے جنوبی علاقے سرک کے قریب ایک شادی کی تقریب کے دوران ایک گھر امریکی حملے کی زد میں آ گیا، جس میں 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ امریکی حملوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں میں شامل ہے۔ اردن میں حملوں کے بعد فضائی حملے کے سائرن بھی بجائے گئے۔ایران کی جوابی کاروائی صرف اردن تک محدود نہیں رہی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ایران نے اردن، بحرین اور عراق میں امریکی فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
 

کویت میں بھی ڈرون حملوں کی اطلاع

کویت نے بھی کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرون حملوں کا جواب دیا۔ فوج کے مطابق ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے مشتبہ ڈرونز کو روکنے کی کاروائی کی گئی۔ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے باعث اردن، بحرین اور کویت اس کشیدگی کے اہم مراکز بن گئے ہیں۔

 

امریکہ نے ایران میں آئی آر جی سی کے ٹھکانوں پر حملہ کیا

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ایران میں آئی آر جی سی سے وابستہ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان میں فضائی دفاعی نظام، ،سمندری تنصیبات، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز شامل تھے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز  اور امریکی فوجیوں کو درپیش خطرات کے جواب میں کی گئی۔

 

ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی کاروائی کا بدلہ لینے کی کوشش کی تو واشنگٹن اس سے بھی زیادہ سخت جواب دے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر بڑے اور طاقتور حملے کر رہا ہے۔ انہوں نے ایران پر آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی جوابی کاروائی کی صورت میں امریکہ پہلے سے زیادہ سخت حملے کرے گا۔

 

آئی آر جی سی کا جوابی حملوں کا دعویٰ

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کے مطابق اردن میں ایک امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایرانی میڈیا نے بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف ڈرون حملے کی بھی اطلاع دی، ان دعوؤں کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
 

آبنائے ہرمز پھر مرکزِ توجہ بن گئی

امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی تیل کی برآمدات متاثر کی گئیں تو وہ خلیج کے راستے تیل کی ترسیل میں مزید رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ اس کشیدگی کا اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے، 2 ستمبر کو برینٹ خام تیل تقریباً 95.52 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ یہ سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہاں کسی بھی بڑے بحران سے عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دونوں جانب سے حملے اور جوابی حملوں کے دعوے جاری ہیں، جبکہ خطے کے مختلف ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے ہیں۔ تازہ کشیدگی نے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں اور جنگ بندی کی کوششوں کو بھی مزید مشکل بنا دیا ہے۔