Wednesday, September 02, 2026 | 18 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • فلمیں/ طرززندگی
  • »
  • پدماوتی کے جوہر سین پر تنازع، سوارا بھاسکر نے اپنا مؤقف کیا واضح

پدماوتی کے جوہر سین پر تنازع، سوارا بھاسکر نے اپنا مؤقف کیا واضح

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 02, 2026 IST

پدماوتی کے جوہر سین پر تنازع، سوارا بھاسکر نے اپنا مؤقف کیا واضح
اداکارہ سوارا بھاسکر نے سنجے لیلا بھنسالی کی فلم پدماوتی میں جوہر کے منظر کے حوالے سے اپنے پرانے بیان پر ہونے والی تنقید کے بعد وضاحت پیش کی ہے۔ سوارا نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ رانی پدماوتی یا جوہر کرنے والی دوسری خواتین بزدل تھیں۔ سوارا نے یکم ستمبر کو انسٹاگرام پر ایک ویڈیوں شیئر کی، جس میں انہوں نے اپنے وائرل بیان کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اصل اعتراض جوہر کرنے والی خواتین پر نہیں بلکہ فلم میں دکھائے گئے اس پیغام پر تھا جسے جنسی تشدد سے بچ جانے والی خواتین کے لیے نقصان دہ سمجھا جا سکتا ہے۔
 

جوہر کے منظر پر سوارا کا اعتراض کیا تھا؟

فلم پدماوتی کے آخری حصے میں بڑی تعداد میں خواتین کو جوہر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سوارا کے مطابق یہ منظر دیکھتے ہوئے ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر کوئی خاتون جنسی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد زندہ بچ جائے تو کیا اسے اپنی جان بچانے پر خود کو بزدل سمجھنا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ ان کا سوال یہ تھا کہ کیا ایسی فلم معاشرے میں یہ پیغام دیتی ہے کہ عورت کی عزت یا پاکیزگی اس کی زندگی سے زیادہ اہم ہے۔ سوارا نے کہا کہ عصمت دری سے بچ جانے والی خواتین کو یہ احساس نہیں دلانا چاہیے کہ زندہ بچ جانا کوئی شرم کی بات ہے یا انہیں اپنی جان لے لینی چاہیے تھی۔
 

نربھیا کیس کا بھی ذکر

اپنی وضاحت میں سوارا نے نربھیا کیس کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اس نوجوان خاتون کی ہمت کو یاد رکھنا چاہیے جس نے آخری وقت تک اپنے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنسی تشدد سے بچ جانے والی خواتین کو زندگی جاری رکھنے کا حق ہے اور ان کے زندہ رہنے کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔
 

سوارا نے اپنے پہلے بیان میں کیا کہا تھا؟

31 اگست کو ایک پروگرام کے دوران سوارا نے پدماوتی کے جوہر کے منظر پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ خود جنسی زیادتی کا شکار ہو کر زندہ بچ جاتیں تو شاید انہیں یہ سوچ کر بزدلی محسوس ہوتی کہ انہوں نے اپنی جان کیوں نہیں لی۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی اور بعض لوگوں نے الزام لگایا کہ وہ رانی پدماوتی اور جوہر کرنے والی خواتین کو بزدل قرار دے رہی ہیں۔ بعد میں سوارا نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ہرگز ان خواتین کو بزدل کہنا نہیں تھا بلکہ وہ یہ سوال اٹھا رہی تھیں کہ فلم اس منظر کے ذریعے معاشرے کو کیا پیغام دے رہی ہے۔
 

حاملہ خاتون کے منظر پر بھی اعتراض

سوارا نے فلم کے ایک اور منظر پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق جوہر کے دوران ایک حاملہ خاتون کے پیٹ کو دکھانے والا منظر انہیں پریشان کن لگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے مناظر سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ جنسی زیادتی کے بعد زندہ رہنے کے بجائے موت کو ترجیح دینا زیادہ عزت کی بات ہے، جس سے وہ اتفاق نہیں کرتیں۔