نیپال کے تباہ کن سیلاب سے متعلق ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 26 اگست کے سانحے سے چند روز پہلے ہی گلیشیئر میں خطرناک تبدیلیوں کے آثار سیٹلائٹ تصاویر میں نظر آ رہے تھے۔ "HiRISK" کی رپورٹ کے مطابق گلیشیئر میں دراڑ پھیلنے اور برفانی تودہ گرنے کے ممکنہ آثار پہلے ہی سامنے آ گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بروقت خبردار کرنے والا مؤثر نظام موجود ہوتا تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ یہ رپورٹ یکم ستمبر کو سامنے آئی تھی، جبکہ 2 ستمبر کو بھی نیپال میں امدادی اور ریسکیو کاروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں و لاپتہ افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
سیلاب سے ہلاکتیں ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں
نیپال میں سیلاب اور اس سے پیدا ہونے والی تباہی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں نیپال اور تبت کو ملا کر 1,127 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 4,800 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر میں خطرے کی نشانیاں
رپورٹ کے مطابق واقعے سے پہلے گلیشیئر کی سطح میں ایک دراڑ پھیل رہی تھی اور برفانی تودے کے گرنے کے آثار بھی نظر آ رہے تھے۔ اس مخصوص گلیشیئر سے متعلق خطرات کے لیے کوئی فعال ابتدائی وارننگ سسٹم موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر متاثرہ علاقوں میں 10 منٹ پہلے خبردار کرنے والا نظام موجود ہوتا تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ تو کئی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکتا تھا۔ تازہ رپورٹس میں ہائیڈرو پاور منصوبوں کے نقصان کی شدت بھی سامنے آئی ہے۔ تقریباً 12 ہائیڈرو پاور منصوبے اور ایک سولر پلانٹ متاثر ہوئے، جو نیپال کی مجموعی فعال بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں۔
بھارت نے اپنے شہریوں کا انخلا کیا
تباہی کے بعد بھارت نے بھی اپنے شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے نکالنے کے لیے کاروائیاں تیز کر دی ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق اب تک 163 بھارتی شہریوں کو محفوظ نکالا جا چکا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق ریسکیو اور امدادی کاروائیوں میں نیپالی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
بھارت کی خصوصی ٹیمیں ریسکیو آپریشن میں شامل
بھارت کی 19 رکنی خصوصی فرانزک ٹیم نے کھٹمنڈو میں اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بھارتی ٹنل ریسکیو ٹیم کو چلیمے کے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگوں میں تلاش اور بچاؤ کے کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔۔ تقریباً 900 کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جن میں تقریباً 500 افراد کے ہائیڈرو پاور سرنگوں میں پھنسے ہونے کا امکان بتایا گیا ہے۔ ملبے، سرنگوں کے منہدم حصوں اور تباہ شدہ سڑکوں کی وجہ سے امدادی کاروائیاں بہت مشکل میں ہیں۔
سرنگوں میں ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل
بھارتی ٹنل ریسکیو ٹیم کو سرنگوں میں امدادی کاروائی کے دوران کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ محدود راستے، دلدلی سطح اور بھاری آلات کے استعمال میں دشواری کے باعث امدادی کام پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ٹیم خصوصی طریقوں اور بہتر فلوٹس کا استعمال کرتے ہوئے سرنگ کے اندر مزید آگے بڑھنے اور وہاں پھنسے افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
زلزلے جیسا سگنل بھی ریکارڈ ہوا
"HiRISK" کی رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر ملبے اور برفانی مواد کی حرکت سے ایسا سیسمولوجیکل سگنل پیدا ہوا جو 4 شدت سے زیادہ کے زلزلے کے سگنل سے مشابہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل میں ایسے سیسمولوجیکل سسٹمز کو بڑے پیمانے پر برفانی یا گلیشیئر سے متعلق واقعات کی پیشگی اطلاع دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔"HiRISK "کی رپورٹ صرف گلیشیئر کی دراڑ تک محدود نہیں تھی۔ سیٹلائٹ تصاویر میں یہ بھی دیکھا گیا کہ 24 اگست کو گلیشیئر کا پگھلا ہوا پانی نمایاں طور پر بھورا ہو گیا تھا، جبکہ اردگرد کی چٹانی ڈھلان میں ایک دراڑ بھی پھیل رہی تھی۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ اس بات کی علامات تھیں کہ گلیشیئر کے اندر کچھ تبدیلی ہو رہی تھی اور اردگرد کی چٹان غیر مستحکم ہو رہی تھی۔ رپورٹ نے اس تباہی سے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ہمالیائی خطے میں گلیشیئر، برفانی تودوں اور اچانک سیلاب جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے وارننگ نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے تھے
اسی علاقے میں 2024 اور 2015 میں بھی برفانی تودے اور دیگر خطرناک قدرتی واقعات پیش آئے تھے، جس کے باوجود گلیشیئر سے متعلق خطرات کی نگرانی اور ابتدائی وارننگ کے نظام میں پیش رفت نہیں ہو سکی۔