تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے قانون ساز اسمبلی میں ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کسانوں اور اساتذہ کو بڑی راحت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مئی 2021 سے اپریل 2026 کے درمیان اپنی روزی روٹی، حقوق اور جائز مطالبات کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں اور اساتذہ کے خلاف درج مقدمات واپس لے لیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی اور جمہوری اقدار کے احترام کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کسانوں اور اساتذہ کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
یہ اعلان خاص طور پر ان کسانوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے جنہوں نے مختلف ترقیاتی اور صنعتی منصوبوں کے خلاف اپنی زمین، پانی کے وسائل اور روزگار کے تحفظ کے لیے احتجاج کیا تھا۔ ترووناملائی ضلع میں SIPCOT صنعتی پارک کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ بعض مظاہرین پر سخت گونڈا ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کی گئی تھی۔ اسی طرح پرندور میں مجوزہ نئے ہوائی اڈے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کو بھی مختلف قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کسانوں کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے کے منصوبے کی وجہ سے ان کی زرعی زمینیں، پانی کے ذرائع اور روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس خدشے کے تحت کسانوں نے احتجاج کیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔
وزیر اعلیٰ وجے کے تازہ اعلان کے بعد ایسے زیر التوا مقدمات واپس لینے کی کارروائی شروع کیے جانے کی توقع ہے، بشرطیکہ وہ حکومت کی جانب سے طے کردہ دائرہ کار اور شرائط کے تحت آتے ہوں۔ اس فیصلے سے ان کسانوں اور اساتذہ کو قانونی کارروائی سے بڑی راحت ملنے کی امید ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے مطالبات کے حق میں پرامن مظاہروں میں شامل رہے تھے۔ حکومت کے اس فیصلے کو احتجاج اور اختلافِ رائے کے جمہوری حق کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر کہا کہ حکومت کسانوں اور اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرتی رہے گی۔ اس اعلان کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ مقدمات واپس لینے کے عمل کو کس طریقے سے آگے بڑھایا جاتا ہے اور کتنے کسانوں اور اساتذہ کو اس فیصلے سے براہِ راست فائدہ پہنچتا ہے۔