• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران کا اسرائیل اور امریکہ کو چیلنج: نئے ہتھیار کی نمائش

ایران کا اسرائیل اور امریکہ کو چیلنج: نئے ہتھیار کی نمائش

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 06, 2026 IST

ایران کا اسرائیل اور امریکہ کو چیلنج: نئے ہتھیار کی نمائش
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ  اوراسرائیل  کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، ایران  نے اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نیا اسٹیلتھ اسٹرائیک ڈرون متعارف کرایا ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور Islamic Revolutionary Guard Corps کی جانب سے تیار کردہ اس ڈرون کو “حدید-110” نام دیا گیا ہے۔
 
اطلاعات کے مطابق یہ ڈرون پہلے ہی میدانِ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے جاری کردہ ایک ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ دشمن کے ریڈار سے بچتے ہوئے تیزی سے ہدف تک پہنچ کر اسے تباہ کر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ نیا ڈرون ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ ایک “خودکش ڈرون” (Suicide Drone) کے طور پر کام کرتا ہے، یعنی ہدف تک پہنچ کر خود کو دھماکے سے تباہ کر کے نقصان پہنچاتا ہے۔
 
اس کے اہم اہداف میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار، کمانڈ سینٹرز اور اہم بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔ ایران کے پہلے استعمال ہونے والے “شاہد-136” ڈرون کے مقابلے میں “حدید-110” تقریباً تین گنا زیادہ تیز رفتار ہے اور یہ تقریباً 510 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے۔اس ڈرون میں تقریباً 30 کلوگرام وزنی طاقتور دھماکہ خیز مواد نصب کیا جا سکتا ہے۔ اس کی رینج تقریباً 350 کلومیٹر ہے اور یہ لگ بھگ ایک گھنٹے تک فضا میں رہ سکتا ہے۔
 
یہ کمپیکٹ جیٹ انجن سے چلنے والا ڈرون ڈیلٹا وِنگ ڈیزائن کا حامل ہے، جس کی بدولت اس کا ریڈار کراس سیکشن کم ہوتا ہے اور یہ آسانی سے ریڈار کی نظر میں نہیں آتا۔ اسے کیٹاپلٹ کے ذریعے فضا میں چھوڑا جاتا ہے، جس کے بعد اس کا جیٹ انجن فعال ہو کر اسے ہدف کی جانب لے جاتا ہے۔
 
کچھ رپورٹس کے مطابق اس ڈرون کو استعمال کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں یا متعلقہ اہداف پر ابتدائی حملے بھی کیے جا چکے ہیں۔ چونکہ United States اور Israel جیسے ممالک اب تک سست رفتار ڈرونز (جیسے شاہد-136) کا مقابلہ کرنے کے عادی تھے، اس لیے یہ تیز رفتار اسٹیلتھ ڈرون ان کے دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔
 
ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ “حدید-110” کی آمد کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں ڈرون جنگ کے طریقہ کار میں ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے، جو خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔