جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گاندربل کے علاقے ارحامہ انکاؤنٹر کے معاملے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے مجسٹریل انکوائری کے حکم کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حقائق جلد سامنے آئیں گے اور متاثرہ خاندان کو انصاف ملنے میں مدد ملے گی۔
مجسٹریل انکوائری زیادہ مؤثر
جموں کے کنونشن سینٹر میں ریہیبلیٹیشن اسسٹنس اسکیم کے تحت تقرر نامے تقسیم کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ نیشنل کانفرنس کے کچھ اراکین اسمبلی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم اس میں کافی وقت لگتا ہے اور جج کی دستیابی بھی ایک مسئلہ ہوتی ہے، اس لیے فوری حقائق جاننے کے لیے مجسٹریل انکوائری زیادہ مؤثر ہے۔
124 امیدواروں میں تقرر نامے
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے جموں ڈویژن کے 124 امیدواروں میں تقرر نامے تقسیم کیے، جنہیں SRO-43 اور ریہیبلیٹیشن اسسٹنس اسکیم کے تحت منتخب کیا گیا تھا۔ یہ اقدام ان خاندانوں کی مدد کے لیے کیا گیا ہے جنہوں نے سرکاری ملازمت کے دوران اپنے کفیل کو کھو دیا۔
متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار
اپنے خطاب میں عمر عبداللہ نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مشکل حالات میں ان کی مدد کے لیے پرعزم ہے اور ایسے فلاحی اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے نئے تعینات ہونے والوں کو ہدایت دی کہ وہ دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور اپنے مرحوم اہل خانہ کی خدمات کو عوامی خدمت کے ذریعے جاری رکھیں۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر اظہار خیال
علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرز گفتگو پر تنقید کی اور کہا کہ کسی بھی صدر کو اپنے عہدے کے وقار کے مطابق گفتگو کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی جتنی طویل ہوگی، عالمی سطح پر مسائل اتنے ہی بڑھیں گے، اور امید ظاہر کی کہ جلد جنگ بندی ہوگی اور خطے میں امن بحال ہوگا۔
عوامی اور حکومت سطح پر مذمت
واضح رہےکہ ضلع گاندربل کے ارحامہ جنگلاتی علاقے میں یکم اپریل 2026 کو ایک انکاؤنٹر پیش آیا۔ جس میں فوج کے مطابق ایک "نامعلوم دہشت گرد" کو ہلاک کیا گیا تھا۔ تاہم، یہ واقعہ شدید تنازع کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ مارے گئے شخص کے اہل خانہ نے اسے عام شہری قرار دیتے ہوئے لاش کی واپسی اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس انکاونٹر پر شدید برہمی ظاہر کی گئی۔ اسمبلی میں بھی اس معاملے پر ہنگامہ ہوا ۔ ارکان نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔