• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • رانچی میں طلبہ کا اسمبلی گھیراؤ، پولیس نے کیا واٹر کینن کا استعمال سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ برقرار

رانچی میں طلبہ کا اسمبلی گھیراؤ، پولیس نے کیا واٹر کینن کا استعمال سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ برقرار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 10, 2026 IST

رانچی میں طلبہ کا اسمبلی گھیراؤ، پولیس نے کیا واٹر کینن کا استعمال  سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ برقرار
جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کو لے کر احتجاج کرنے والے طلبہ نے آج قانون ساز اسمبلی کی جانب مارچ شروع کیا۔مارچ میں جے ایل کے ایم کے رہنما دیویندر ناتھ مہتو بھی شریک ہوئے، جو گزشتہ نو روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ طبیعت خراب ہونے کے باوجود وہ ایمبولینس کے ذریعے اسمبلی تک ہونے والے مارچ میں پہنچے۔ اس دوران انہیں سابق وزیر اعلیٰ شیبو سورین کی تصویر ہاتھ میں لیے دیکھا گیا۔ دریں اثنا، کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی جھارکھنڈ کے طلبہ احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دیویندر ناتھ مہتو کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ CJP کے نمائندوں کے بھی احتجاج میں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
 
مظاہرین نے رکاوٹیں عبور کیں
 
اسمبلی کی جانب بڑھتے ہوئے مظاہرین نے راستے میں لگائی گئی متعدد رکاوٹیں عبور کر لیں۔ پولیس نے ہجوم کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ مظاہرین ترنگے اور پلے کارڈز اٹھائے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ حکام کے مطابق مظاہرین کے مارچ کے پیش نظر تقریباً چار کلومیٹر طویل راستے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ علاقے میں امتناعی احکامات نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ ریپڈ ایکشن فورس، انڈین ریزرو بٹالین، ضلعی پولیس اور کوئیک رسپانس ٹیموں سمیت 1,500 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
 
سی بی آئی انکوائری پر مظاہرین بضد
 
طلبہ کے احتجاج کے باعث رانچی کے کئی اسکول بھی بند کیے گئے ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی حل سامنے نہیں آ سکا۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات کے دوران مظاہرین کے تقریباً 98 فیصد مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے بنیادی مطالبات اب بھی پورے نہیں ہوئے۔
 
 
مظاہرین کا بڑا اعلان 
 
جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی ریفارمس منچ کے رہنما رویندر پاسوان نے واضح کیا کہ مظاہرین اس وقت تک سمجھوتہ نہیں کریں گے جب تک امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی سے تحقیقات کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جن 13 امتحانات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، حکومت نے ان میں سے صرف تین امتحانات منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ایسے میں رانچی میں جاری احتجاج اور اسمبلی گھیراؤ نے جھارکھنڈ کی سیاست اور امتحانی نظام پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔