کرناٹک کی سیاست میں آج بڑے سیاسی اتھل پتھل کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریاست کے وزیر اعلیٰ سدارمیا اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں ایک بڑا موڑ آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس خبر کے بعد سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور کانگریس پارٹی کے اندر بھی اہم مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے گورنر سے ملاقات کے لیے وقت طلب کیا ہے۔ اسی دوران بنگلورو میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر انہوں نے کابینہ کے وزراء کی ایک اہم ’بریک فاسٹ میٹنگ‘ بھی طلب کی ہے، جسے سیاسی طور پر انتہائی اہم مانا جا رہا ہے۔ اس میٹنگ میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، قیادت میں تبدیلی اور کابینہ میں ممکنہ رد و بدل پر تبادلہ خیال کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
سیاسی ذرائع کے مطابق اگر سدارمیا استعفیٰ دیتے ہیں تو کانگریس کے سینئر رہنما D. K. Shivakumar کو ریاست کا نیا وزیر اعلیٰ بنایا جا سکتا ہے۔ ڈی کے شیو کمار طویل عرصے سے کرناٹک کانگریس کی سیاست میں ایک مضبوط چہرہ مانے جاتے ہیں اور پارٹی تنظیم پر ان کی مضبوط گرفت بھی سمجھی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کی قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ نئی سیاسی ترتیب کے تحت تقریباً 15 سے 20 نئے وزراء کو کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ کئی موجودہ وزراء کے قلمدان بھی تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ کانگریس قیادت آئندہ انتخابات اور ریاستی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تبدیلیاں کر سکتی ہے۔
تاہم اس پورے معاملے میں ایک نئی پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ کرناٹک کے گورنر اس وقت ریاست میں موجود نہیں ہیں، جس کے باعث وزیر اعلیٰ کی ممکنہ ملاقات اور استعفیٰ کے عمل میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ابھی تک سرکاری سطح پر استعفے کی تصدیق نہیں کی گئی، لیکن بنگلورو سے آنے والی سیاسی سرگرمیوں نے ریاست کی سیاست کو گرم کر دیا ہے اور اب سب کی نظریں کانگریس قیادت کے اگلے فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔