Tuesday, September 15, 2026 | 01 ربيع الثاني 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • سعودی آئل پائپ لائن بند، عالمی تیل سپلائی پر خطرہ، قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ

سعودی آئل پائپ لائن بند، عالمی تیل سپلائی پر خطرہ، قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 14, 2026 IST

سعودی آئل پائپ لائن بند، عالمی تیل سپلائی پر خطرہ، قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل کی منڈی پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب کی اہم ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کے متبادل اہم راستے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اس کی بندش نے عالمی تیل کی سپلائی کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، اگر پائپ لائن کا آپریشن جلد بحال نہ ہوا تو عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد متاثر ہوسکتا ہے۔ 
 
تقریباً 1200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں سے خام تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں اس پائپ لائن سے روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل خام تیل منتقل کیا جارہا تھا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں مشکلات کے باعث ینبع کے راستے تیل کی برآمد سعودی عرب کے لیے مزید اہم ہوگئی ہے۔
 
پائپ لائن کی بندش کے بعد ینبع میں موجود تیل کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی عرب موجودہ ذخائر کے ذریعے تقریباً 5 سے 7 دن تک برآمدات جاری رکھ سکتا ہے۔ مصر کی بندرگاہوں پر موجود سعودی تیل کے اضافی ذخائر عارضی طور پر مددگار ہوسکتے ہیں، تاہم پائپ لائن کی طویل بندش کی صورت میں یہ ذخائر مستقل حل نہیں ہوں گے۔ پائپ لائن کی مرمت میں کتنا وقت لگے گا، اس بارے میں مختلف اندازے سامنے آئے ہیں۔ بعض صنعتی ذرائع کے مطابق مکمل مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ پمپنگ کا جزوی عمل اس سے پہلے بحال کیا جاسکتا ہے۔
 
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار پہلے ہی کم ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اگست میں سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار تقریباً 62 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جبکہ فروری میں یہ تقریباً 1 کروڑ 9 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ پیداوار میں کمی اور برآمدات کے متبادل راستے میں خلل نے عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش بڑھا دی ہے۔ اس صورتحال سے اوپیک پلس ممالک پر بھی سپلائی بڑھانے کے منصوبوں کے حوالے سے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
 
تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب کے علاقے میں بھی سکیورٹی صورتحال تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق یمن میں حوثی جنگجوؤں کی سرگرمیوں سے خطے میں جہاز رانی کے راستوں کو مزید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستوں پر طویل عرصے تک خلل برقرار رہا تو عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے، جس سے مختلف ممالک میں ایندھن کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
 
سعودی پائپ لائن کی بندش کی خبر کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 14 ستمبر کو برینٹ کروڈ تقریباً 107.81 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 102.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچا۔ اگر پائپ لائن کی بحالی میں تاخیر ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز و بحیرہ احمر میں بھی تیل کی نقل و حمل متاثر رہتی ہے تو سپلائی کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں خام تیل کی قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کا اثر پیٹرول، ڈیزل، ہوابازی کے ایندھن اور دیگر پٹرولیم مصنوعات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
 
بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ ایسے میں اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو بھارت کا درآمدی بل بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی، نقل و حمل اور دیگر اشیا کی لاگت پر بھی دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی طویل ہوتی ہے تو اس کا اثر عالمی توانائی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ بھارت کی معیشت اور عام صارفین پر بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔