بنگال: 2026 کے اسمبلی انتخابات میں مغربی بنگال کا نندی گرام حلقہ ایک بار پھر سیاسی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس کی وجہ سپلیمنٹری ووٹر لسٹ (SIR) سے نکالے گئے ووٹروں کی مذہبی تقسیم ہے، جس میں 95.5 فیصد ووٹر مسلمان ہیں، حالانکہ یہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 25 فیصد ہے۔ اس کے برعکس، ہٹائے گئے غیر مسلم ووٹروں کا تناسب صرف 4.5 فیصد ہے، جو آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کولکتہ میں واقع صبر انسٹی ٹیوٹ نے سات سپلیمنٹری ووٹر لسٹوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جنہیں الیکشن کمیشن نے فہرست 1، 2، 3، 4a، 7، 8 اور 9 کے نام سے جاری کیا۔ انسٹی ٹیوٹ نے نوٹ کیا کہ چھ فہرستوں میں ہٹائے گئے مسلم ووٹروں کا تناسب 60 فیصد سے لے کر 98 فیصد تک تھا۔ واحد استثناء فہرست '4a' ہے، جس میں ہٹائے گئے تمام نام غیر مسلم خواتین کے تھے۔
نندی گرام میں سپلیمنٹری ووٹر لسٹ سے مجموعی طور پر 2,826 نام نکال دیے گئے۔ ان میں 48.9 فیصد خواتین اور 51.1 فیصد مرد شامل تھے، جس سے جنس کے لحاظ سے تقسیم تقریباً متوازن نظر آتی ہے۔ تاہم مذہبی لحاظ سے اعداد و شمار غیر متوازن ہیں: مسلمانوں کا تناسب 95.5 فیصد ہے، جبکہ غیر مسلم ووٹروں کی تعداد معمولی ہے۔
دسمبر 2025 کے ڈیٹا کے مطابق ایک مخصوص فہرست میں 33.3 فیصد مسلم ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے، جو پہلے ذکر شدہ ضمنی فہرستوں کے مقابلے میں کافی کم ہے لیکن آبادی کے تناسب کے مطابق اب بھی زیادہ ہے۔
الیکشن کمیشن نے متاثرہ ووٹروں کو اپیل کرنے کا اختیار دیا ہے اور اس کے لیے نندی گرام میں 19 اپیلٹ ٹربیونلز قائم کیے گئے ہیں۔ نندی گرام میں پہلے مرحلے کے انتخابات 23 اپریل کو ہونے ہیں اور کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 6 اپریل تھی۔ قواعد کے مطابق اس تاریخ کے بعد ووٹر لسٹ منجمد ہو جاتی ہے، جس کے باعث جن ووٹروں کے نام ہٹائے گئے، ان کے پاس اپیل دائر کرنے کے لیے 6 اپریل سہ پہر 3 بجے تک کا وقت تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ ضمنی ووٹر لسٹ تنازعہ نندی گرام کے انتخابات کی اہمیت کو مزید بڑھا رہا ہے، خاص طور پر جب یہ حلقہ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں بھی ہائی پروفائل رہا تھا، جہاں بی جے پی کے سویندو ادھیکاری نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شکست دی تھی۔