Tuesday, August 18, 2026 | 03 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • سپریم کورٹ میں چونکا دینے والی رپورٹ، 326 ارکانِ پارلیمنٹ پر فوجداری مقدمات

سپریم کورٹ میں چونکا دینے والی رپورٹ، 326 ارکانِ پارلیمنٹ پر فوجداری مقدمات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

سپریم کورٹ میں چونکا دینے والی رپورٹ، 326 ارکانِ پارلیمنٹ پر فوجداری مقدمات
بھارت کی سیاست میں مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر سپریم کورٹ میں ایک انتہائی تشویشناک اور حیران کن رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 326 ارکانِ پارلیمنٹ (ایم پیز) اور 14 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت قانون سازوں کے خلاف 4 ہزار سے زائد سنگین مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ عدالتی معاون (ایمیکس کیوری) اور سینئر ایڈوکیٹ وجے ہنساریہ کی جانب سے داخل کردہ اس رپورٹ نے ہندوستانی سیاست کا ایک بھیانک چہرہ سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
 
پارلیمنٹ کے 326 اراکین نامزد
 
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے کل 776 اراکین میں سے 326 اراکین مجرمانہ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سے 210 اراکین کے خلاف انتہائی سنگین کیسز درج ہیں، جن میں جرم ثابت ہونے پر 5 سال یا اس سے زیادہ کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
 
لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی صورتحال
 
'ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز' (ADR) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ:
 
لوک سبھا: کل 543 اراکین میں سے 251 (تقریباً 46 فیصد) کے خلاف مجرمانہ مقدمات ہیں۔ ان میں سے 170 کے خلاف سنگین زمرے کے کیسز ہیں۔
 
راجیہ سبھا: کل 233 اراکین میں سے 75 (تقریباً 33 فیصد) اراکین کے خلاف مقدمات درج ہیں، جن میں سے 40 کے خلاف سنگین نوعیت کے کیسز جاری ہیں۔
 
14 وزرائے اعلیٰ کے خلاف مقدمات
 
رپورٹ کے مطابق ملک کی 28 ریاستوں میں سے 14 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے خلاف مجرمانہ مقدمات کا اعتراف کیا ہے۔
 
تلنگانہ: وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے خلاف سب سے زیادہ 89 مقدمات درج ہیں۔
 
مغربی بنگال: وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے خلاف 29 مقدمات درج ہیں۔
 
کرناٹک: وزیراعلیٰ ڈی کے شوکمار کے خلاف 19 مقدمات درج ہیں۔
 
ریاست وار اعداد و شمار: کیرالہ سب سے آگے
 
ارکانِ پارلیمنٹ پر مجرمانہ مقدمات کے معاملے میں ریاست وار صورتحال کچھ یوں ہے:
 
کیرالہ: 20 میں سے 19 اراکینِ پارلیمنٹ کے خلاف مقدمات ہیں۔
 
تلنگانہ: 17 میں سے 14 اراکین۔
 
اوڈیشہ: 21 میں سے 16 اراکین۔
 
تامل ناڈو: 39 میں سے 26 اراکین۔
 
جھارکھنڈ: 14 میں سے 10 اراکین۔
 
دیگر ریاستیں: اتر پردیش، مہاراشٹر، مغربی بنگال، بہار، کرناٹک اور آندھرا پردیش کے تقریباً نصف ارکانِ پارلیمنٹ نامزد ہیں۔
 
بہتر صورتحال: ہریانہ کے 10 میں سے صرف 1 اور چھتیس گڑھ کے 11 میں سے صرف 1 رکنِ پارلیمنٹ پر کیس درج ہے۔
 
خاص عدالتوں اور ترجیحی سماعت کا مطالبہ
 
یہ معاملہ ایڈوکیٹ اشونی اپادھیائے کی 2016 میں دائر کردہ مفادِ عامہ کی عرضی (PIL) سے منسلک ہے، جس میں انہوں نے ممبرانِ اسمبلی اور پارلیمنٹ کے خلاف زیر التوا کیسز کی جلد سماعت کے لیے 'فاسٹ ٹریک عدالتوں' کا مطالبہ کیا تھا۔
 
وجے ہنساریہ نے عدالت کو بتایا کہ 2018 سے اب تک زیر التوا مقدمات کی تعداد تقریباً برقرار ہے۔ سال 2025 میں 1,243 مقدمات کو نپٹایا گیا، جبکہ 1,050 نئے مقدمات درج ہوئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم پیز اور ایم ایل ایز کے لیے مختص خصوصی عدالتیں ترجیحی بنیادوں پر صرف انہی مقدمات کی روزانہ سماعت کریں۔