پاکستان نے جیشِ محمد کے سربراہ اور دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں مطلوب مسعود اظہر کی گرفتاری میں مددگار معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے انعام کی رقم بڑھا کر 70 لاکھ پاکستانی روپے کر دی ہے۔ مسعود اظہر کا نام پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تازہ ترین انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی ’ریڈ بک‘ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سے قبل 2021 میں ایف آئی اے نے مسعود اظہر کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات کے لیے 50 لاکھ روپے انعام مقرر کیا تھا۔ اب پانچ سال بعد اس رقم میں مزید 20 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔بھارتی جانب سے اس پیش رفت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض بھارتی سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے مسعود اظہر کی موجودگی کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہے۔ تاہم بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مبینہ تکنیکی تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسعود اظہر پاکستان میں موجود ہوسکتا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ایف آئی اے کی تازہ فہرست میں ممبئی کے 26/11 حملوں سے مبینہ طور پر وابستہ 19 افراد کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان افراد پر حملہ آوروں کو مالی مدد فراہم کرنے، ان کی معاونت کرنے یا حملے میں استعمال ہونے والی کشتیوں سے متعلق کردار ادا کرنے کے الزامات ہیں۔
فہرست میں شامل افراد میں سے 17 کے بارے میں تصاویر اور ان کے مبینہ کردار کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق دو افراد کے نام برقرار رکھتے ہوئے ان کی تصاویر، لشکرِ طیبہ سے مبینہ وابستگی اور حملوں میں ان کے کردار سے متعلق بعض تفصیلات ہٹا دی گئی ہیں۔
ان افراد میں محمد خان کا نام بھی شامل ہے، جس کے بارے میں رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے ’الحسینی‘ نامی کشتی فراہم کی تھی۔ اسی طرح بہاولنگر کے عبدالرحمن کا نام بھی فہرست میں موجود ہے، تاہم ان سے متعلق بعض تفصیلات اور تصویر ہٹائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کی فہرست میں ایسے افراد کے نام بھی شامل ہیں جن پر 26/11 حملوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ ان میں محمد افتخار علی، محمد ضیاء، محمد عباس ناصر، جاوید اقبال، مختار احمد اور احمد سعید شامل ہیں۔ ان افراد پر مختلف رقم فراہم کرنے کے الزامات درج ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق 26/11 حملوں سے منسلک یہ افراد گزشتہ تقریباً 18 برس سے مفرور ہیں۔ دوسری جانب بھارتی انٹیلی جنس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد پاکستان میں ہی موجود ہیں اور انہیں ’موسٹ وانٹڈ‘ فہرست میں شامل کرنا محض دکھاوے کی کارروائی ہے۔ اس دعوے کی بھی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔ رپورٹ میں ایف آئی اے کی 2021 کی ریڈ بک کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس وقت انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی تعداد 1,330 تھی، جو اب بڑھ کر 1,804 ہوچکی ہے۔ یوں گزشتہ پانچ برسوں میں فہرست میں شامل افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔