Tuesday, August 18, 2026 | 03 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • بھیک مت مانگو، ورنہ واپس بھیجے جاؤ گے، سعودی عرب میں پاکستانی زائرین کے لیے سخت وارننگ’

بھیک مت مانگو، ورنہ واپس بھیجے جاؤ گے، سعودی عرب میں پاکستانی زائرین کے لیے سخت وارننگ’

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

بھیک مت مانگو، ورنہ واپس بھیجے جاؤ گے، سعودی عرب میں پاکستانی زائرین کے لیے سخت وارننگ’
پاکستان نے سعودی عرب جانے والے عازمین حج اورمعتمرین کے لیے نئی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ پاکستانی سفارت خانے نےعازمین کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں بھیک مانگنے، جیب تراشی اور کسی بھی غیر قانونی طریقے سے رقم جمع کرنے سے مکمل طور پر گریز کریں، ورنہ انہیں قانونی کاروائی کے ساتھ ملک بدری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستانی سفارت خانے نے عازمین حج کو ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے سعودی عرب کے قوانین اور ویزا سے متعلق ضوابط کی پابندی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سفارت خانے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں خاص طور پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات پر بھیک مانگنے اور غیر مجاز طریقے سے رقم وصول کرنے کے معاملے میں سختی سے کاروائی کی جاتی ہے۔
 

بھیک مانگنے اور غیر قانونی رقم جمع کرنے پر سخت کاروائی

سفارت خانے نے عازمین کو واضح کیا ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔ خاص طور پر بھیک مانگنے، لوگوں سے زبردستی یا غیر مجاز طریقے سے رقم لینے اور جیب تراشی جیسے کام سنگین خلاف ورزیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ عازمین کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سعودی عرب میں صرف سرکاری طور پر منظور شدہ خدمات استعمال کریں اور کسی ایسے شخص یا ادارے سے خدمات حاصل نہ کریں جو غیر مجاز ہو۔ سفارت خانے کے مطابق سعودی عرب کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف مقامی قانون کے تحت کاروائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ شخص کو سعودی عرب سے ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔سفارت خانے نے خبردار کیا کہ سعودی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتاری، حراست کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 

عازمین ویزا قوانین کی پابندی کریں

پاکستانی سفارت خانے نے عازمین کو سعودی ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ عازمین کو چاہیے کہ وہ اپنے ویزا کی مدت، اجازت شدہ سرگرمیوں اور سعودی عرب میں قیام سے متعلق تمام شرائط کو اچھی طرح سمجھیں۔ سفارت خانے نے کہا کہ حج یا عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے والے افراد کو بھی وہاں کے قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔ اس لیے عازمین کو حج اور عمرہ کے دوران سعودی قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔
 

سعودی عرب کےعمرہ ویزا کے قوانین میں تبدیلی

سعودی عرب نے عمرہ زائرین کے لیے ویزا نظام میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ نئے نظام کے تحت ایک سال کے لیے جاری ہونے والے متعدد داخلوں والے عمرہ ویزا کے حامل افراد کو ہر سفر کے لیے منظور شدہ سروس پیکیج بک کرنا ہوگا۔ یہ ویزا جاری ہونے کی تاریخ سے 365 دن تک قابل استعمال ہوگا، اس ویزا پر زائرین کو مجموعی طور پر 90 دن تک سعودی عرب میں قیام کی اجازت ہوگی۔ایک سال کا ویزا رکھنے والے شخص کو ہر مرتبہ سعودی عرب جانے سے پہلے نسک پلیٹ فارم پر منظور شدہ سروس فراہم کنندہ سے نیا پیکیج لینا ہوگا اور عمرہ پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔ 
 

نسخ عمرہ کارڈ کیا ہے؟

سعودی عرب نے معترمین  اور عازمین حج کی سہولت کے لیے نسک عمرہ کارڈ بھی متعارف کرایا ہے۔ یہ ایک ڈیجیٹل نظام ہے جس کا مقصد زائرین کے سفر کو زیادہ منظم اور محفوظ بنانا ہے۔ نسک عمرہ کارڈ کے ذریعے عازمین کو مختلف سہولیات اور ضروری معلومات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس میں و حمل نقل ، رہائش اور سفر کے راستوں سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ یہ نظام شٹل بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ سروسز تک رسائی میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ کارڈ کا ایک اہم مقصد غیر مجاز افراد کو حج کے مخصوص مقامات میں داخل ہونے سے روکنا اور عازمین کی نقل و حرکت کو بہتر انداز میں منظم کرنا بھی ہے۔
 

عازمین کی شناخت اور معلومات کا ریکارڈ

نسک عمرہ کارڈ شناخت کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے سعودی حکام عازمین کی ضروری ذاتی معلومات کا ریکارڈ برقرار رکھنے میں مدد حاصل کرتے ہیں۔ اس نظام کا مقصد حج اور عمرہ کے دوران عازمین کو زیادہ محفوظ اور منظم ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے اجتماعات کے دوران ہجوم کو کنٹرول کرنے اور ٹرانسپورٹ کے انتظام میں بھی اس نظام سے مدد لی جاتی ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی زائرین کے لیے کارڈ کے استعمال کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔ مقامی زائرین اسے اپنے موبائل فون کے ذریعے ڈیجیٹل شکل میں استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی زائرین کو سعودی عرب پہنچنے پر اس کا پرنٹ شدہ ورژن فراہم کیا جا سکتا ہے۔
 

حج دنیا کا بڑا مذہبی اجتماع

حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے اور ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں۔ صاحب استطاعت اور جسمانی طور پر اہل مسلمان پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج فرض ہے۔ حج اسلامی قمری کیلنڈر کے آخری مہینے ذوالحجہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ اس دوران دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے لاکھوں مسلمان ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں، اسی لیے سعودی حکومت عازمین کی حفاظت، نقل و حرکت اور نظم و ضبط کے لیے مختلف قوانین اور انتظامات نافذ کرتی ہے۔
 

ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد رکنے سے بھی خبردار کیا گیا ہے

سفارت خانے کی ہدایت کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے ویزا کی مقررہ مدت سے زیادہ سعودی عرب میں قیام نہ کریں۔ پاکستانی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حج کے دوران سعودی قوانین کی مکمل پابندی کریں، غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہیں اور صرف منظور شدہ خدمات استعمال کریں تاکہ وہ کسی قانونی مشکل کا شکار نہ ہوں اور اپنا مذہبی فریضہ سکون اور اطمینان کے ساتھ ادا کریں۔