امریکی کمپنی پے پال(PayPal) نے بھارت میں تقریباً 600 ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی نے یہ فیصلہ اپنے عالمی تنظیم نو کے منصوبے کے تحت کیا ہے۔ بھارت میں ہونے والی یہ چھانٹی پے پال (PayPal) کی ملک میں موجود مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 10 فیصد بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس اقدام سے ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آپریشنز، ادائیگیوں اور فنانس سمیت کئی اہم شعبوں کے ملازمین متاثر ہوئے ہیں۔ چھانٹی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ مختلف ٹیکنالوجی اور کاروباری کاموں سے وابستہ ملازمین کو اس کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ملازمین کو کیسے بتایا گیا؟
ذرائع کے مطابق متاثرہ ملازمین کو ایک ورچوئل کال میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا، جہاں انہیں کمپنی کی جانب سے ملازمت ختم کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ اس کے فوراً بعد بعض ملازمین کی کمپنی کے سسٹمز تک رسائی بھی منسوخ کر دی گئی۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی نے متاثرہ ملازمین کو تقریباً ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر معاوضہ اور نئی ملازمت تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، کمپنی کی پالیسی اور مخصوص شرائط کے باعث تمام ملازمین معاوضے کے اہل نہیں ہوں گے۔
حیدرآباد، بنگلورو اور چنئی متاثر
بھارت میں پے پال کے اہم ٹیکنالوجی اور آپریشنل مراکز حیدرآباد، بنگلورو اور چنئی میں واقع ہیں اور تازہ چھانٹیوں کا اثر ان تینوں شہروں میں کام کرنے والے ملازمین پر پڑا ہے۔ان مراکز میں ملازمین ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آپریشنز اور دیگر کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ کمپنی کی جانب سے مختلف محکموں میں ملازمتیں ختم کیے جانے کے باعث کئی ٹیموں پر اس فیصلے کا اثر پڑا ہے۔
پے پال نے چھانٹی کیوں کی؟
پے پال اس وقت اپنے کاروباری ڈھانچے کو دوبارہ منظم کرنے اور اخراجات کم کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ کمپنی عالمی سطح پر اپنے آپریشنز کو مزید ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی اور دیگر ترجیحی شعبوں پر توجہ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔مئی 2026 میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق پے پال اگلے دو سے تین برسوں کے دوران اپنی عالمی افرادی قوت میں تقریباً 20 فیصد تک کمی کرنے کے منصوبے پر غور کر رہا تھا۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 4,760 ملازمتیں متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ بھارت میں تقریباً 600 ملازمین کی تازہ چھانٹی کو اسی عالمی تنظیم نو کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام نے ایک بار پھر ٹیکنالوجی اور فِن ٹیک شعبے میں ملازمتوں کے مستقبل اور کمپنیوں کی لاگت کم کرنے کی پالیسیوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔