بہارکی سیاست میں ایک بار پھر بدعنوانی کے الزامات کو لے کر سیاسی درجہ حرارت بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے بعد اب ان کی بہن روہنی آچاریہ نے بھی سمراٹ چودھری حکومت پر مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے حکومت پر مبینہ "ڈسٹ بن اسکینڈل" کا الزام لگاتے ہوئے ڈسٹ بن کی خریداری پر سوال اٹھایا ہے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ سمراٹ حکومت کی طرف سے ایک اور مشکوک سودا، یہاں تک کہ ڈسٹ بن بھی بہت مہنگا ہو گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار میں تقریباً 1,500 روپے کا ڈسٹ بن مبینہ طور پر 15 ہزار روپے میں خریدا گیا، یعنی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
وزیر اعلیٰ سے روہنی آچاریہ کا سوال
روہنی آچاریہ نے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور وزیر منگل پانڈے سے مبینہ مہنگی خریداری کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کچرا رکھنے کا کنٹینر ہے یا سرکاری خزانے کو خالی کرنے کی نئی اسکیم؟ انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ڈسٹ بن کی مختلف اقسام کی تصویر بھی شیئر کی، جس پر "بہار میں ڈسٹ بن اسکیم" لکھا گیا تھا۔
حکومت سے شفافیت کا مطالبہ
اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے اس معاملے کے بعد بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر سرکاری خریداری میں واقعی مارکیٹ قیمت سے کئی گنا زیادہ رقم ادا کی گئی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا ڈسٹ بن کی قیمت زیادہ ہونے کی کوئی تکنیکی یا معیار سے متعلق وجہ ہے؟کیا اس خریداری کے لیے باقاعدہ ٹینڈر جاری کیا گیا تھا؟اور اگر قیمت میں اتنا بڑا فرق ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عوامی پیسے سے ہونے والی خریداری میں شفافیت انتہائی ضروری ہے، اس لیے حکومت کی جانب سے دستاویزات اور مکمل وضاحت سامنے آنا اس بحث کو ختم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہوگا۔
RJD میں تنظیمی تبدیلیوں کی حمایت
دوسری جانب روہنی آچاریہ نے حال ہی میں راشٹریہ جنتا دل (RJD) کی تنظیم نو کی حمایت بھی کی تھی۔ انہوں نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا کہ نئی کمیٹیوں کی تشکیل میں سینئر رہنماؤں، وفادار کارکنوں اور لالو پرساد یادو کے دیرینہ حامیوں کو مناسب نمائندگی دی جائے۔ اب ڈسٹ بن کی خریداری کے معاملے میں ان کے الزامات نے بہار کی سیاست میں ایک نیا سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے۔ کیا حکومت اس مبینہ ’مہنگے ڈسٹ بن‘ کی خریداری کا مکمل حساب عوام کے سامنے رکھے گی؟