Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران میں شدید کشیدگی، محسن رضائی کا ٹرمپ کے دعووں پر طنز

آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران میں شدید کشیدگی، محسن رضائی کا ٹرمپ کے دعووں پر طنز

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 19, 2026 IST

آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران میں شدید کشیدگی، محسن رضائی کا ٹرمپ کے دعووں پر طنز
ایران اور امریکہ کے درمیان چھ ماہ سے جاری تنازعہ اب دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ (Strait of Hormuz) کے گرد شدید عسکری و سیاسی تعطل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ تنازعہ رواں سال 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس گزرگاہ پر بار بار کنٹرول کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ آبی راستہ ہمیشہ سے اس کی جغرافیائی اور ملکی حدود کا حصہ رہا ہے اور رہے گا۔
 
محسن رضائی کا ردِعمل اور امریکی دعوے کا مذاق
 
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سکریٹری اور اعلیٰ سیکیورٹی اہلکار محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (X) پر امریکی صدر کے دعووں کو شدید تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا۔
 
محسن رضائی نے اپنے بیان میں لکھا:
 
’’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں ناکامی اور اس پر اختیار و اقتدار کا دعویٰ کرنے والے امریکہ کے درمیان کا فاصلہ، امریکی دارالحکومت (واشنگٹن ڈی سی) کو ہرمز سے الگ کرنے والے 7,000 میل کے جغرافیائی فاصلے سے بھی کہیں زیادہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید طنزیہ انداز اپنائے ہوئے لکھا، خلیج فارس میں خوش آمدید۔
 
عالمی تجارت کے لیے اہم چیلنج
 
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو عمان کی خلیج اور کھلے سمندر سے جوڑنے والی وہ اہم ترین گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی کل تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نے عالمی منڈیوں اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
 
 
وہیں دوسری طرف ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بگھائی نے متحدہ عرب امارات کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران نے یو اے ای کی جانب بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ اسماعیل  بگھائی  کا کہنا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات کی طرف کوئی بیلسٹک میزائل لانچ نہیں کیا۔ ایرانی ترجمان نے یو اے ای کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ تہران کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔