Wednesday, June 24, 2026 | 07 محرم 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • !باسرسرسوتی مندر میں چوری۔ چاندی کا تاج اور نذرانےغائب

!باسرسرسوتی مندر میں چوری۔ چاندی کا تاج اور نذرانےغائب

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 23, 2026 IST

!باسرسرسوتی مندر میں چوری۔ چاندی کا تاج اور نذرانےغائب
 
تلنگانہ کے ضلع نرمل کے باسرکی مشہور گنا سرسوتی مندر ایک بار پھر چوری کی واردات کا شکار ہو گیا، مندر میں چوری کے بعد عقیدت مندوں اور مقامی شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق  دو نامعلوم افراد نے پیر اور منگل کی درمیانی شب مندر کے احاطے میں داخل ہوئے۔مندر کا دروازہ توڑا اور چاندی کا تاج اور 'ہْنڈی'لے کر فرار ہو گئے۔ انہوں نے 'ہنڈی' سے نقدی نکال کر مندر کے قریب خالی ڈبہ پھینک دیا۔

  پولیس کی خصوصی ٹیمیں دی گئی تشکیل 

چوری کا انکشاف منگل کی صبح اس وقت ہوا جب پجاری پوجا کے لیے مندر پہنچے۔مندر کے اہلکاروں نے پولیس کو اطلاع دی۔ اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور تحقیقات شروع کر دیں۔اور ملزمین کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو نقاب پوش افراد کو مندر میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تفتیش کے حصے کے طور پر سراغ لگانے  والی ٹیم اور ڈاگ اسکواڈ  کی  بھی خدمات میں حاصل کی گئی۔

چاندی کے تاج کا وزن تقریباً1.5کلو تھا

مندر کے حکام کے مطابق چاندی کے تاج کا وزن تقریباً ڈیڑھ کلو گرام ہے۔ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جانکی شرمیلا، مدھول ایم ایل اے راما راؤ اور دیگر عہدیداروں نے مندر کا دورہ کیا۔

مندر کی ہزاروں سال پرانی تاریخ

گنا سرسوتی تلنگانہ کے بڑے مندروں میں سے ایک ہے۔  یہ مندر  دریا گوداوری کے کنارے پر واقع ہے، جسے "دکشینہ گنگا" (جنوبی ہن کی  گنگا) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ مندر ہزاروں سالوں پر محیط ایک شاندار تاریخ  رکھتی ہے۔ بتایاجاتا ہے، کروکشیتر جنگ کے بعد، وید ویاس گوداوری کے کنارے باسر میں رہنے کے لیے آئے اور اپنے قیام کے دوران، انہوں نے دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں کی مجسمہ سازی کی ۔ اس کے بعد سے، باسر نے ایک مقدس مقام کے طور پر مقبولیت حاصل کی ۔

225 کروڑ سے ترقیاتی کام

اپریل میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے مندر کی توسیع اور225 کروڑ روپے کی لاگت سے کئے جانے والے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا۔

 عقیدت مندوں میں تشویش 

مقامی عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مندر میں نگرانی کے لیے کیمرے نصب ہیں، لیکن وقفے وقفے سے ہونے والی وارداتیں ظاہر کرتی ہیں کہ حفاظتی اقدامات ناکافی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مندر کے داخلی اور خارجی راستوں پر مزید نگرانی رکھی جائے، رات کے وقت اضافی سکیورٹی تعینات کی جائے اور جدید نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

 مذہبی جذبات م جروح

علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مذہبی مقامات پر اس قسم کے واقعات نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ لوگوں کے جذبات کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مندر میں آنے والے عقیدت مند اپنے عقیدے اور اعتماد کے ساتھ نذرانے پیش کرتے ہیں، اس لیے ان مقامات کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

پہلے بھی ہوئی ہے چوری 

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس مندر میں چوری کی واردات پیش آئی ہو۔ اس سے قبل 15 اگست 2024 کو بھی ایک نامعلوم شخص نے مندر سے تعلق رکھنے والے ایک الماری نما حصے کو نقصان پہنچا کر نذرانے اور قیمتی سامان چرایا تھا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کرتے ہوئے نظام آباد ضلع کے 21 سالہ نوجوان سائی کمار کو گرفتار کیا تھا۔ اس سابقہ واقعے کے باوجود تازہ چوری نے سکیورٹی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

 پولیس کی یقین دہانی 

دوسری جانب پولیس نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور تمام دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور دیگر معلومات کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس کو امید ہے کہ جلد ہی اس واردات میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
باسرسرسوتی مندر میں پیش آنے والا یہ تازہ واقعہ ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ مذہبی اور عوامی مقامات کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے اورعقیدت مند بلا خوف و خطر اپنی  مذہبی رسومات ادا کرسکیں۔