مدھیہ پردیش میں تینوں بی جے پی امیدواروں نے راجیہ سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے کے بعد یہ سیٹ بی جے پی کے پاس چلی گئی۔ الیکشن میں تین سیٹوں کیلئے بی جے پی کے صرف تین امیدوار ہی مقابلے میں رہ گئے۔ اس کے ساتھ، الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ تینوں امیدوار متفقہ طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ بی جے پی کے تین امیدوار،رجنیش اگروال، مہیش کیوٹ، اور ترون چُگ اپنی جیت کا سرٹیفکیٹ ریٹرننگ آفیسر سے حاصل کیا ۔ کانگریس کی خاتون لیڈر میناکشی نٹراجن نے ان تینوں میں سے ایک سیٹ سے راجیہ سبھا کے لیے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔ ایسا لگتا ہےکہ اس جیت نے میناکشی نٹراجن کی امیدیں پوری طرح ختم کر دی ہیں۔
میناکشی نٹراجن کا پرچہ کیوں ہوا مسترد؟
دراصل یہ الیکشن 18جون کو ہونا تھا۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے کانگریس امیدوار میناکشی نامزدگی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ انہوں نے تلنگانہ میں درج کیس سے متعلق تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔ پرچہ کی جانچ کے بعد، ای سی نے میناکشی کی نامزدگی کو منسوخ کر دیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے حلف نامے میں غلط تفصیلات تھیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس پر فی الحال ایک تنازعہ چل رہا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے اس معاملے میں سازش کی ہے۔ اس پر کانگریس پارٹی نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت 12 تاریخ کو ہوگی۔
سپریم کورٹ میں سماعت
ادھر سپریم کورٹ ،میناکشی نٹراجن کے کاغذات نامزدگی کی منسوخی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 12 جون کو کرے گا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر جلد سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جسٹس پرشانت کمار شرما اور اتل ایس چندورکر کی بنچ نے 12 جون کو سماعت مقرر کی ہے۔
سینئروکیل مکل روہتگی نےعرضی کی مخالفت کی
میناکشی نٹراجن کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عرضی پر فوری سماعت کی مانگ کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 11 جون ہے اور اگر کیس کی فوری سماعت نہ ہوئی تو امیدوار کو مزید6سال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ ریٹرننگ افسر کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے درخواست کی مخالفت کی۔
ریٹرننگ آفیسرکے فیصلے کوچیلنج کرنا
میناکشی نٹراجن نے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو غلط اورخلاف قانون قرار دیتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت اس فیصلے کو فوری طور پر کالعدم قرار دے۔ سماعت کے دوران درخواست گزارنے انتخابی نتائج پر روک لگانے کی بھی مانگ کی۔ تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ کیس کی سماعت 12 جون کو ہوگی۔ فی الحال، نتائج پر کوئی روک نہیں لگائی گئی ہے۔