مشرق وسطیٰ کے حالات بدستور خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکہ نے ایران پر مسلسل دوسرے دن حملے کیے ہیں جس سے پورے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران میں متعدد مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے "سیلف ڈیفنس اسٹرائیکس" شروع کی گئیں۔ امریکہ نے کہا کہ یہ کاروائی ایران کی مسلسل اور بلا جواز جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے۔ ان حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کے اطراف دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس، قیشم جزیرہ، مِناب اور سریک شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران نے ہرمز بند کر دیا، امریکی فوج کی تردید
ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور اس کے ذریعے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جو بھی جہاز وہاں سے گزرنے کی کوشش کرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم یوایس سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ غلط ہے۔ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور بحری جہاز اب بھی وہاں سے گزر رہے ہیں۔ادھر ایرانی میڈیا نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا۔ تاہم امریکی فوج کی جانب سے بھی اس دعوے کی تردید کی گئی ہے۔ یوایس سینٹ کام کی ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ کسی بھی امریکی جنگی جہاز پر حملہ نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ نے پہلے ہی کہا تھا کہ حملہ ہو گا
تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات پٹری سے اترتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی فوجی حملوں سے پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایران پر "زبردستی " حملہ کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں تعاون نہیں کیا اور مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایک دن پہلے ایک زوردار حملہ کیا تھا اور دوبارہ ایسا ہی کرے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریق ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں لیکن بات چیت میں پیشرفت ہونے کے بجائے اس میں بار بار رکاوٹ ہورہی ہے۔
ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا
مغربی ایشیا ایک بار پھر افراتفری کا شکار ہے۔ امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرائے جانے کے جواب میں امریکہ کی جانب سے فضائی حملے کیے جانے کے بعد ایران نے خلیجی علاقے میں جوابی حملے شروع کر دیے ہیں۔
بحرین اور کویت نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا ہے اور ایران کی جانب سے انہیں نشانہ بنانے کے بعد سکیورٹی وارننگ جاری کر دی ہیں۔ ایران نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے اردن میں العزرق ایئر بیس پر حملہ کیا ہے۔ اردن کی مسلح افواج نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے ایران کی طرف سے الازرق کے علاقے کی طرف داغے گئے پانچ میزائلوں کو روک کر مار گرایا۔
کویتی فوج نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے باہمی حملوں کے تناظر میں اس کے فضائی دفاعی نظام کو دشمن کے طیاروں کے اہداف کا سامنا ہے۔ بحرین کی وزارت نے تصدیق کی ہے کہ انتباہی سائرن بجائے گئے تھے۔ بحرینی بادشاہ کے میڈیا ایڈوائزر نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو کامیابی سے پسپا کر دیا ہے۔