Friday, May 29, 2026 | 11 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • افریقی ملک کانگو میں ایبولا وائرس کا قہر: 906 کیسز اور 223 مشتبہ اموات، کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں

افریقی ملک کانگو میں ایبولا وائرس کا قہر: 906 کیسز اور 223 مشتبہ اموات، کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 29, 2026 IST

افریقی ملک کانگو میں ایبولا وائرس کا قہر: 906 کیسز اور 223 مشتبہ اموات، کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں
افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (DRC) میں خطرناک ایبولا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اب تک ملک بھر میں ایبولا کے 906 مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے 223 افراد کی مشتبہ موت ہو چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے جمعہ کے روز اس تشویشناک صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کانگو میں پھیلنے والی یہ بیماری ایبولا کا انتہائی مہلک 'بنڈی بوگیو اسٹراین'ہے۔ کانگو کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک یوگنڈا بھی اس کی زد میں آ گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس مخصوص اسٹراین کے لیے فی الحال دنیا میں کوئی بھی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں ہے۔
 
افریقہ میں پھیلاؤ؛ شرحِ اموات 30 سے 50 فیصد تک
 
ڈبلیو ایچ او کے حکام کے مطابق، کانگو میں اب تک ایبولا کے 125 تصدیق شدہ کیسز درج ہوئے ہیں، جن میں سے اٹوری، شمالی کیوو اور جنوبی کیوو کے علاقوں میں 17 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ دوسری طرف، یوگنڈا میں بھی ایبولا کے 7 کنفرم کیسز ملے ہیں، جن میں سے 3 مریض کانگو سے سفر کر کے وہاں پہنچے تھے اور ان میں سے ایک مریض دم توڑ چکا ہے۔
 
عالمی ادارے نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کمیونٹی ٹرانسمیشن کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اس وائرس سے متاثرہ لوگوں میں شرحِ اموات 30 سے 50 فیصد تک دیکھی جا رہی ہے، جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔
 
علاج کے لیے 3 تجرباتی ادویات کا ٹرائل جاری:
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق، سائنسدانوں نے اب تک 3 ایسی تجرباتی ادویات کی نشاندہی کی ہے جو اس خطرناک بنڈی بوگیو اسٹراین کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:
 
MBP134: یہ دوا میپ بائیو فارماسیوٹیکل کی تیار کردہ ہے۔
 
MaFTIVImab: اسے ریجینیرون کمپنی نے تیار کیا ہے۔
 
Remdesivir: یہ جلیڈ سائنسزکی اینٹی وائرل دوا ہے۔
 
ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ یہ تمام ادویات ابھی تجرباتی مراحل میں ہیں۔ ریجینیرون کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی دوا کانگو میں پہلے سے موجود ہے اور اگر ڈبلیو ایچ او اجازت دیتا ہے تو اسے فوری طور پر کلینیکل ٹرائلز اور علاج کے مطالعہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
 
ایبولا کے اس مہلک اسٹراین سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ویکسین کی تیاری پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے:
 
rVSV بنڈی بوگیو ویکسین: 
 
یہ ویکسین 'انٹرنیشنل ایڈز ویکسین انیشیٹو' کے ذریعے تیار کی جا رہی ہے، تاہم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اسے انسانی تجربات (Human Trials) کے لیے تیار ہونے میں مزید 7 سے 9 مہینے لگ سکتے ہیں۔
 
ChAdOx1 بنڈی بوگیو ویکسین: 
 
دنیا کی مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی اور سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (SII) مشترکہ طور پر اس دوسری ویکسین پر کام کر رہے ہیں۔ یہ ویکسین اگلے 2 سے 3 ماہ کے اندر انسانوں پر تجربے کے لیے تیار ہو سکتی ہے، حالانکہ اس سے پہلے اس کے جانوروں پر مزید کچھ ٹیسٹ (Animal Testing) ہونا باقی ہیں۔ عالمی طبی ماہرین کو امید ہے کہ یہ ویکسین جلد ہی افریقہ میں جاری اس بحران پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگی۔