بنگلورو: کرناٹک کی سیاست میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری کھینچ تان اور سیاسی ہلچل بالآخر ختم ہو گئی ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے دیے گئے استعفے کو ریاست کے گورنر تھاور چند گہلوت نے باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ جب سدارامیا نے استعفیٰ دیا تھا، تو گورنر بنگلورو میں موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے راج بھون جا کر اپنا استعفیٰ گورنر کے سکریٹری کو سونپ دیا تھا۔ تاہم، اندور سے بنگلورو واپس لوٹتے ہی گورنر گہلوت نے سدارامیا کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ اس مہر کے ساتھ ہی اب ریاست میں ڈی کے شیوکمار کے نئے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ پوری طرح صاف ہو گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، ڈی کے شیوکمار یکم جون یا 3 جون کو نئے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لے سکتے ہیں۔
کرناٹک میں بن سکتے ہیں 4 نائب وزرائے اعلیٰ :
معلومات کے مطابق، نئی حکومت کی تشکیل اور کابینہ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک نیا فارمولا اپنایا جا رہا ہے۔سدارامیا، ڈی کے شیوکمار اور کرناٹک کانگریس کے انچارج رندیپ سرجیوالا بہت جلد پارٹی کی مرکزی قیادت (ہائی کمان) کے ساتھ نئی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔
اس اہم میٹنگ میں راجیہ سبھا کے امیدواروں، ایم ایل سی (MLC) امیدواروں اور نئی کابینہ کی تشکیل پر خصوصی غور کیا جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ سدارامیا کی کابینہ کے کئی موجودہ وزراء کو ڈی کے شیوکمار کی نئی ٹیم میں جگہ ملنے کا امکان بہت کم ہے۔
ریاست میں مختلف برادریوں، سماجی اور علاقائی مساوات کو برقرار رکھنے کے لیے ڈی کے شیوکمار حکومت کے تحت چار نائب وزرائے اعلیٰ مقرر کیے جا سکتے ہیں۔
دہلی کی میٹنگ میں ہوا تھا حتمی فیصلہ:
کرناٹک میں وزیر اعلیٰ کی کرسی کو لے کر پچھلے کئی مہینوں سے اندرونی تنازع چل رہا تھا، جسے حل کرنے کے لیے کانگریس ہائی کمان نے دہلی میں ایک ہنگامی اور بڑی میٹنگ بلائی تھی۔ اس میٹنگ میں سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار دونوں نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران دونوں لیڈروں نے متفقہ طور پر یہ تسلیم کیا تھا کہ پارٹی کے سینئر لیڈر راہول گاندھی جو بھی فیصلہ کریں گے، وہ سب کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ اسی فیصلے کے بعد سدارامیا کو دستبردار ہونا پڑا اور اب ڈی کے شیوکمار اگلے ہفتے ریاست کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔
میرا سیاسی سفر ایک کھلی کتاب ہے: سدارامیا
استعفیٰ دینے کے بعد ایک جذباتی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا،ہائی کمان کی ہدایت کے مطابق میں نے اپنا استعفیٰ سکریٹری کو سونپ دیا تھا، اور مجھے پورا یقین تھا کہ گورنر صاحب آتے ہی اسے منظور کر لیں گے کیونکہ یہ سب آئین کے دائرے میں ہوا ہے۔ میرے لیے ہمیشہ ریاست کا مفاد اور ترقی سب سے اوپر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ،میں نے اپنے 50 سالہ طویل سیاسی سفر میں کبھی عہدے، طاقت یا پیسے کے پیچھے بھاگنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کوئی جائیداد بنائی ہے۔ ووٹرز اور عوام کی خدمت ہی میرا اصل مقصد ہے۔ میری سیاسی زندگی سب کے سامنے ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔