Friday, May 29, 2026 | 11 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • وزیر اعظم خود کر رہے ہیں نگرانی؛نیٹ پیپر لیک کے سوال پر مرکز کا سپریم کورٹ میں جواب

وزیر اعظم خود کر رہے ہیں نگرانی؛نیٹ پیپر لیک کے سوال پر مرکز کا سپریم کورٹ میں جواب

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 29, 2026 IST

وزیر اعظم  خود کر رہے ہیں نگرانی؛نیٹ پیپر لیک کے سوال پر مرکز کا سپریم کورٹ میں جواب
 سپریم کورٹ آف انڈیا نے جمعہ کے روز نیٹ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے سخت لہجے میں کہا کہ جب تک اس بڑی لاپرواہی کے ذمہ دار افراد کا احتساب نہیں کیا جائے گا اور انہیں کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا، تب تک 'نیٹ' جیسے بڑے قومی امتحانات کی ساکھ کو متاثر کرنے والے مسائل برقرار رہیں گے۔ عدالت نے این ٹی اے میں بنیادی اصلاحات کے لیے ایک جامع اور وسیع منصوبہ بھی طلب کیا ہے۔
 
اسی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ خود وزیراعظم دفتر (PMO) اور وزیراعظم نریندر مودی ذاتی طور پر اس پورے معاملے اور نیٹ امتحان کے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں۔
 
ذمہ داری اور احتساب طے ہونا ضروری ہے: سپریم کورٹ
 
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ نے این ٹی اے (NTA) کو تحلیل کرنے کی مانگ کرنے والی متعدد درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران بنچ نے  کہا کہ،موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے۔ قومی سطح کے امتحانات کو مستقل طور پر متاثر کرنے والے ایسے مسائل کی تکرار کو روکنے کے لیے سخت احتساب طے کرنا ہوگا۔ جب بھی امتحانات میں کوئی گڑبڑ یا دھاندلی ہوتی ہے، تو یہ پتہ ہی نہیں چل پاتا کہ کسی مخصوص غلطی یا کام کے لیے اصل میں کون سا افسر ذمہ دار ہے۔
 
عدالت کا این ٹی اے کو مشورہ: 
 
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے این ٹی اے کے حکام سے سوال کیا کہ اتنے بڑے مانیٹرنگ سسٹم اور نگران کمیٹیوں کی موجودگی کے باوجود اتنی بڑی چوک اور پیرا میڈیکل پیپر لیک کیسے ہو گیا؟
 
عدالت نے یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے سب سے معتبر سول سروسز امتحان میں کبھی پیپر لیک کے واقعات نہیں ہوئے، اس لیے این ٹی اے کو یو پی ایس سی کے امتحانی نظام اور فول پروف میکانزم سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے اصرار کیا کہ جب تک گڑبڑ کرنے والے اصل چہروں کی شناخت نہیں ہوگی، تب تک حالات نہیں سدھریں گے۔
 
وزیراعظم مودی خود صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں: سالیسیٹر جنرل
 
سپریم کورٹ نے پیپر لیک کو طلباء کے لیے "انتہائی تکلیف دہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو اپنے ہونہار طلباء اور ان کے خاندانوں کو اس طرح مایوس نہیں کرنا چاہیے، یہ صورتحال بہت افسوسناک ہے۔ یہ صرف ایک طالب علم کا نہیں بلکہ پورے خاندان کا مسئلہ ہوتا ہے۔
 
مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ لاپرواہی کی ذمہ داری کسی نہ کسی پر تو آنی ہی چاہیے۔ انہوں نے بنچ کو مطلع کیا کہ:وزیراعظم نریندر مودی ذاتی طور پر اس پوری صورتحال کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور حکومت ملک کے نوجوانوں اور ان کے مستقبل کو لے کر انتہائی فکر مند ہے۔
 
وزارتِ فروغِ انسانی وسائل سے حلف نامہ طلب:
 
عدالتِ عظمیٰ نے وزارتِ فروغِ انسانی وسائل سے سالانہ امتحانات کے انعقاد اور این ٹی اے (NTA) میں شعبہ جاتی ماہرین کو شامل کر کے انسانی وسائل کو بہتر بنانے کے طریقہ کار پر ایک تفصیلی حلف نامہ پیش کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے کہا: "یہ کوشش اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ این ٹی اے کے پاس 2024 اور 2026 کے امتحانات جیسے دوبارہ کوئی واقعات نہ ہوں، اور ادارہ کافی مادی اور فکری وسائل سے لیس ہو"۔ سپریم کورٹ نے اب اس معاملے کی اگلی سماعت جولائی میں مقرر کی ہے۔
 
اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر کے رادھا کرشنن عدالت میں حاضر:
 
جمعہ کی سماعت کے دوران، 2024 میں نیٹ پیپر لیک کے بعد سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کی گئی مانیٹرنگ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر کے رادھا کرشنن بھی ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہوئے۔ جسٹس نرسمہا نے ان سے سوال کیا کہ کمیٹی کی سفارشات اور بعد میں کی گئی اصلاحات کے باوجود 2026 میں دوبارہ یہ تنازع کیسے کھڑا ہوا؟
 
اس پر ڈاکٹر رادھا کرشنن نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی نے امتحانی نظام کو بہتر بنانے کے لیے 35 طویل مدتی اور 60 قلیل مدتی سفارشات دی تھیں، جن میں سے بیشتر کو نافذ کیا جا چکا ہے۔ بنچ نے کمیٹی کے کام کاج کی مزید تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔