سپریم کورٹ آف انڈیا نے ملک کی مایہ ناز خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے انہیں ایشین گیمز 2026 کے سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ونیش پھوگاٹ کی ملک کے لیے خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا:اگر کوئی اور اتھلیٹ ہوتا تو یہ الگ سطح کا معاملہ ہوتا، لیکن انہوں نے (ونیش پھوگاٹ) ملک کا سر فخر سے بلند کیا ہے، اس لیے انہیں موقع ملنا چاہیے۔
تاہم، اس راحت کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے اس معاملے کی جانچ کے طریقے اور کھیل کے معاملات میں عدالتوں کی فوری مداخلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کھیلوں کے طے شدہ نظام میں عدالتوں کا آسانی اور جلدی سے مداخلت کرنا ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
ملک پہلے ہے، یہ میڈیکل کالج کا ایڈمیشن نہیں: سپریم کورٹ
بھارتی کشتی فیڈریشن (WFI) نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں ونیش کو ٹرائلز کی اجازت دی گئی تھی۔ اس اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس پی ایس نرسمہا نے ونیش پھوگاٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:آپ بلا شبہ ایک بہترین اور عالمی سطح کی ایتھلیٹ رہی ہیں، لیکن ہمیشہ ملک پہلے آتا ہے۔ یہ کسی میڈیکل کالج میں داخلے کا معاملہ نہیں ہے، یہ قومی اور بین الاقوامی کھیل ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ عدالتیں اس طرح بار بار مداخلت کریں اور کھیلوں کے پورے طے شدہ شیڈول کو خراب کر دیں۔
30 اور 31 مئی کو ہونے ہیں ٹرائلز؛ ہائی کورٹ نے دی تھی اجازت
واضح رہے کہ اس سے قبل 22 مئی کو دہلی ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے ونیش پھوگاٹ کو ایشین گیمز 2026 کے سلیکشن ٹرائلز میں بیٹھنے کی منظوری دی تھی۔ ہائی کورٹ کا مؤقف تھا کہ ڈبلیو ایف آئی (WFI) کی موجودہ سلیکشن پالیسی میں ایسی مایہ ناز کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کا کوئی واضح ضابطہ نہیں ہے جو زچگی کے وقفے (Maternity Break) کے بعد رنگ میں واپسی کر رہی ہوں۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ 30 اور 31 مئی کو ہونے والے ان ٹرائلز کی باقاعدہ ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے اور اسپاٹس اتھارٹی آف انڈیا (SAI) اور انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (IOA) کا ایک آزاد مبصر (Independent Observer) بھی وہاں موجود رہے۔
فٹ بال میں بھی ایسے ہی مسائل دیکھ رہے ہیں: عدالت
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کا فوری مداخلت کرنا اسپورٹس باڈیز، ایتھلیٹس اور کھلاڑیوں کے مسائل کا مستقل حل نہیں ہے۔ بنچ کا ماننا تھا کہ قانونی مداخلت تنازعات کو حل کرنے کے بجائے مزید الجھا دیتی ہے۔ جسٹس نرسمہا نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف کشتی ہی نہیں، بلکہ فٹ بال کی اسپورٹس باڈیز میں بھی ہم اسی طرح کے عدالتی مسائل دیکھ رہے ہیں۔
کھیلوں کے تنازعات عدالتوں کے بجائے باہمی تال میل سے حل ہوں
سپریم کورٹ نے اس بات پر سخت زور دیا کہ کھیلوں سے جڑے تنازعات کا جواب عدالت کے ہالوں میں نہیں مل سکتا۔ ان مسائل کو کھیل کے میدان میں ہی کھلاڑیوں، شرکاء اور کھیل سے متعلق اداروں کے درمیان ایک مضبوط اور باہمی تال میل کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ جسٹس نرسمہا نے خبردار کیا کہ اگر یہ معاملات روز عدالت آئیں گے تو عدالت کے ہالوں میں بحث مزید تلخ ہو جائے گی اور آخر کار اس سے کھیل کا نظام کمزور ہوگا۔