• News
  • »
  • صحت
  • »
  • موٹاپے کے بڑھتے خطرات، جدید علاج اور مؤثر بچاؤ کیسے؟

موٹاپے کے بڑھتے خطرات، جدید علاج اور مؤثر بچاؤ کیسے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 20, 2026 IST

موٹاپے کے بڑھتے خطرات، جدید علاج اور مؤثر بچاؤ کیسے؟
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Obesity Beyond Weight Gain: Causes,Health Risks, Modern Treatments & Prevention" کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی نشست پیش کی گئی۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر جیادتیہ گھوش، سینئر اینڈوکرائنولوجسٹ، یشودا ہاسپٹلس نے موٹاپے کو صرف جسمانی وزن بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور دائمی بیماری قرار دیتے ہوئے اس کے اسباب، صحت پر مرتب ہونے والے اثرات، جدید علاج اور احتیاطی تدابیر پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
 
ڈاکٹر جیادتیہ گھوش نے کہا کہ آج کے دور میں موٹاپا دنیا بھر میں تیزی سے بڑھنے والا صحت کا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اسے صرف زیادہ کھانے یا کم ورزش کرنے کا نتیجہ سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہارمونز میں تبدیلی، جینیاتی عوامل، ذہنی دباؤ، ناکافی نیند، بعض ادویات اور غیر متوازن طرزِ زندگی بھی موٹاپے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
 
انہوں نے بتایا کہ جسم میں غیر ضروری چربی جمع ہونے سے صرف وزن ہی نہیں بڑھتا بلکہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں، فالج، فیٹی لیور، گردوں کے مسائل، جوڑوں کا درد، بانجھ پن، سلیپ اپنیا اور بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق موٹاپا انسان کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی اعتماد اور معیارِ زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
 
گفتگو کے دوران ڈاکٹر گھوش نے اس غلط فہمی کو بھی دور کیا کہ موٹاپے کا علاج صرف ڈائٹنگ سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مریض کی جسمانی کیفیت، میٹابولزم، ہارمونز اور دیگر طبی مسائل مختلف ہوتے ہیں، اس لیے علاج بھی انفرادی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں متوازن غذا، روزانہ کم از کم تیس منٹ کی جسمانی سرگرمی، مناسب نیند، ذہنی دباؤ پر قابو پانا اور ماہر غذائیت کی رہنمائی انتہائی اہم ہوتی ہے۔
 
انہوں نے مزید بتایا کہ جدید دور میں ایسے مریض جن کا وزن بہت زیادہ ہو یا جنہیں موٹاپے کے ساتھ ذیابیطس اور دیگر پیچیدگیاں لاحق ہوں، ان کے لیے جدید اینٹی اوبیسٹی ادویات اور مخصوص انجیکشنز مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ بعض مریضوں میں باریاٹرک سرجری بھی ایک محفوظ اور کامیاب آپشن ہو سکتی ہے، لیکن یہ فیصلہ مکمل طبی معائنے اور ماہرین کی رائے کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔
 
ڈاکٹر جیادتیہ گھوش نے والدین پر بھی زور دیا کہ بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کو معمولی نہ سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، اسکرین ٹائم میں اضافہ اور جسمانی سرگرمی کی کمی بچوں میں بھی موٹاپے کی بڑی وجوہات بن رہی ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں سنگین بیماریوں کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
 
پروگرام کے اختتام پر انہوں نے ناظرین کو یہ پیغام دیا کہ موٹاپا شرمندگی یا ظاہری شکل کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج طبی بیماری ہے۔ بروقت تشخیص، صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور ماہر ڈاکٹر سے مشورہ نہ صرف وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ذیابیطس، دل کے امراض اور دیگر پیچیدگیوں سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی مثبت عادتیں ہی مستقبل میں بہتر صحت اور خوشحال زندگی کی بنیاد بنتی ہیں۔
 
قارئین آپ،سینئر اینڈوکرائنولوجسٹ ،ڈاکٹر جیادتیہ گھوش، یشودا ہاسپٹلس کی یہ ویڈیو یہاں دیکھ سکتےہیں۔ اور ساتھ ہی مختلف امراض سے متعلق ماہرین کے بے شمار ویڈیوز منصف ٹی وی ہیلتھ پردیکھ سکتےہیں۔