Friday, May 29, 2026 | 11 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سعودی عرب میں 20 سال موت کی سزا کا سامنا کرنے والے عبدالرحیم کی وطن واپسی

سعودی عرب میں 20 سال موت کی سزا کا سامنا کرنے والے عبدالرحیم کی وطن واپسی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 29, 2026 IST

سعودی عرب میں 20 سال موت کی سزا کا سامنا کرنے والے عبدالرحیم کی وطن واپسی
سعودی عرب کی جیل میں گزشتہ بیس برسوں سے موت کی سزا کا سامنا کرنے والے بھارتی شہری عبدالرحیم بالآخر رہا ہو کر اپنے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ کیرالہ کے ضلع کوزیکوڈ کے رہائشی عبدالرحیم کی گھر واپسی نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کو جذباتی کر دیا ہے۔ جمعرات کے روز جب وہ کالی کٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں ان کا تاریخی اور شاندار استقبال کیا گیا۔ طویل انتظار کے بعد رحیم کو اپنے درمیان دیکھ کر اہلخانہ، دوست، سماجی کارکنان اور مقامی لوگوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
 
ایئرپورٹ پر رحیم کے استقبال کے لیے ہزاروں لوگوں کا ہجوم جمع تھا، جو ہاتھوں میں پھول اور خیرمقدمی بینرز لیے کھڑے تھے۔ کیرالہ کے معروف صنعت کار بوبی چیمنور نے بھی ایئرپورٹ پہنچ کر رحیم کو گلے لگایا۔ اس موقع پر عبدالرحیم نے ہاتھ ہلا کر عوام کا شکریہ ادا کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا بھر کے ان تمام لوگوں کے تہہ دل سے شکرگزار ہیں جنہوں نے ان کی زندگی کے مشکل ترین دور میں ان کا ساتھ دیا۔
 
بیس سال بعد ماں بیٹے کا ملاپ؛ عید الاضحیٰ کی خوشیاں دوبالا
 
ایئرپورٹ سے عبدالرحیم سیدھے اپنے گھر پہنچے جہاں ان کا خاندان بے صبری سے راہ تک رہا تھا۔ گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی عبدالرحیم اپنی بوڑھی ماں سے لپٹ کر زار و قطار رو پڑے۔ بیس سال بعد اپنے جگر گوشے کو اپنے سامنے دیکھ کر ماں بھی اپنے آنسو نہ روک سکیں۔ ماں بیٹے کے اس جذباتی ملاپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں رحیم بار بار اپنی ماں کا ماتھا چومتے اور انہیں گلے لگاتے نظر آ رہے ہیں۔
 
عبدالرحیم کی یہ یادگار واپسی عید الاضحیٰ کے موقع پر ہوئی ہے، جس نے خاندان کی خوشیوں کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بار ان کے علاقے کی عید انتہائی خاص بن گئی ہے کیونکہ ایک بے گناہ کو نئی زندگی ملی ہے اور پورا گاؤں جشن کے ماحول میں ڈوبا ہوا ہے۔
 
2006 میں پیش آیا تھا المناک حادثہ:
 
عبدالرحیم بیس سال قبل روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گئے تھے، جہاں وہ ایک مقامی خاندان میں بطور ڈرائیور اور کیئر ٹیکر ملازم ہوئے۔ سال 2006 میں ان کی دیکھ بھال میں موجود ایک معذور سعودی بچے کی کار میں سفر کے دوران مبینہ طور پر حادثاتی طور پر موت ہو گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد رحیم پر قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک طویل قانونی جنگ کے بعد، سال 2018 میں سعودی عدالت نے انہیں موت کی سزا (سزائے موت) سنائی، کیونکہ مقتول بچے کے خاندان نے انہیں معاف کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
 
انسانیت کی بڑی مثال:
 
سعودی قانون کے تحت عبدالرحیم کی پھانسی کو روکنے اور ان کی رہائی کا واحد راستہ "بلڈ منی" (دیت یا معاوضہ کی رقم) کی ادائیگی تھا، جس کے لیے مقتول کے خاندان نے 1.5 کروڑ سعودی ریال (تقریباً 34 کروڑ بھارتی روپے) کا مطالبہ کیا تھا۔ اتنی بھاری رقم ایک غریب خاندان کے لیے جمع کرنا ناممکن تھا۔
 
ایسے میں کیرالہ کے عوام، سماجی تنظیموں، این آر آئی (NRI) گروپس اور دنیا بھر کے لوگوں نے مل کر ایک بڑی مہم شروع کی اور چند ہی دنوں میں 34 کروڑ روپے کا فنڈ اکٹھا کر کے سعودی عدالت میں جمع کرا دیا۔ اس بے مثال عوامی اور اجتماعی کوشش کی بدولت عبدالرحیم کی پھانسی منسوخ ہوئی اور ان کی باوقار رہائی ممکن ہو سکی۔ وطن واپسی پر انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ رہتی دنیا تک ان تمام لوگوں کے احسان مند رہیں گے جنہوں نے انہیں موت کے منہ سے نکال کر دوبارہ ان کی ماں سے ملایا ہے۔