اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان اور غزہ میں ایک با پھر بمباری شروع کر دی ہے۔لبنان پر تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 19 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ پورے خطے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں سے 6 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں 58 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں قریبی ہسپتالوں اور ہنگامی طبی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
معاہدوں کے باوجود جنگ بندی بے اثر:
دونوں ممالک کے درمیان مسلسل جنگ بندی کے معاہدے ہو رہے ہیں لیکن زمین پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا۔2 مارچ سے اب تک،اسرائیل نے حملوں میں مسلسل شدت پیدا کی ہے۔16 اپریل کو پہلی بار دونوں ممالک کے مابین 10 روزہ سیز فائر ہوا، مگر خلاف ورزیاں جاری رہیں۔مئی میں سیز فائر کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اسے 3 ہفتوں کے لیے بڑھایا گیا۔15 مئی کو دونوں فریقین کے درمیان 45 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا، لیکن اس کے باوجود اسرائیلی بمباری نہیں تھمی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی فوج کو واضح احکامات دیتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے تک لبنان پر حملوں کا سلسلہ ہر سمت سے جاری رکھا جائے۔
غزہ: عید الاضحیٰ کے پہلے دن بھی بموں کی بارش:
دوسری طرف، غزہ پٹی میں عید الاضحیٰ کے مقدس دن پر بھی اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور خونریزی کا سلسلہ نہیں تھم سکا۔ غزہ میں کیے گئے تازہ فضائی حملوں میں کم از کم 10 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں الشفاء ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
نیتن یاہو کا بڑا دعویٰ: غزہ کے 60 فیصد حصے پر اسرائیل کا کنٹرول
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے شمالی غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں حماس کا ایک لڑاکا عماد اسلیم بھی مارا گیا۔ دوسری طرف، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ!اسرائیل مسلسل غزہ پر اپنا کنٹرول بڑھا رہا ہے۔ اب تک ہم غزہ پٹی کے تقریباً 60 فیصد حصے پر قابض ہو چکے ہیں اور بہت جلد اس دائرے کو 70 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ ہم ہر سمت سے حماس پر شکنجہ کس رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج پہلے ہی غزہ کے تقریباً 50 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکی تھی، بعد ازاں یہ دائرہ 60 فیصد تک بڑھایا گیا، اور اب انہوں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ غزہ کے 70 فیصد حصے پر قبضہ یقینی بنایا جائے۔
خیال رہے کہ اکتوبر میں جنگ بندی لاگو ہونے کے بعد سے اب تک، مجموعی طور پر 922 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 2,786 تک پہنچ چکی ہے۔ تمام تر عالمی کوششوں کے باوجود اس خطے میں امن کے بادل دور دور تک نظر نہیں آ رہے۔