• News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • ریاستی درجے کی بحالی کے لیے عمرعبداللہ کا دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج

ریاستی درجے کی بحالی کے لیے عمرعبداللہ کا دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 20, 2026 IST

ریاستی درجے کی بحالی کے لیے عمرعبداللہ کا دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نےدہلی کے جنتر منتر پر جموں کشمیر کے ریاست کے درجہ کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک احتجاج کی قیادت کی۔ عمرعبداللہ نے ریاستی درجہ کی بحالی کا حکومت ہند کو وعدہ یاد دلایا، جو انہوں نے سال 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے وقت کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق   مانگنے آئے ہیں لیکن ہمیں پرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔اس موقع پر انہوں نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے   دہلی کے وعدوں پر سوالات اٹھائے اور دیگر مسائل پر بھی میڈیا سے بات کی ۔ وہیں این سی صدر  فاروق عبداللہ نے بھی  جنتر منتر پر کہا، "دو سال گزر چکے ہیں، لیکن وزیر داخلہ نے ابھی تک  اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔

آٹو کےذریعہ احتجاج میں پہنچےعمرعبداللہ 

 جموں وکشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمرعبداللہ، جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت کے لیے آج جموں سے نئی دہلی پہنچے۔ وہاں جاری ہنگامہ آرائی اور ٹریفک کے باعث، انہیں احتجاجی مقام تک پہنچنے کے لیے آٹو رکشے کا سہارا لینا پڑا۔ عمر عبداللہ کے ہمراہ ان کے دونوں فرزند، زوہیب عبداللہ اور ضمیرعبداللہ بھی موجود تھے۔ آٹو میں سوار عمرعبداللہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

 وادی کشمیرکے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج 

جنتر منتر کے ساتھ ساتھ آج وادی کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے  محتلف ضلعی دفاتر پر بھی ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے احتجاج کیا گیا۔ سرینگر میں نیشنل کانفرنس کے ہیڈ کوارٹر 'نوائے صبح' میں این سی رہنماؤں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کیا۔ اس احتجاج کی کال کے پیش نظر سکیورٹی کے کڑے انتظامات کیے گئے تھے۔

ادھم پورمیں احتجاج 

آج دہلی سمیت مختلف مقامات پر نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر احتجاج کیا، جبکہ ادھم پور میں بھی کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔پارٹی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، جسے پورا کرنے کے لیے اب جلد از جلد عملی اقدامات کیے جائیں۔

 کلگام میں بھی احتجاج 

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے کلگام میں ریاستی درجہ اور آئینی و جمہوری حقوق کی بحالی کے مطالبے پر پرامن احتجاج کیا اور کہا کہ مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رہے گی۔پولیس کی مداخلت کے بعد مظاہرین پُرامن طور پر منتشر ہو گئے، جبکہ پارٹی نے مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت جلد بحال کرنے کا مطالبہ دہرایا۔

 بارہمولہ میں این سی کا احتجاج 

بارہمولہ میں نیشنل کانفرنس کے کارکنوں نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر پرامن احتجاجی ریلی نکالی اور مرکزی حکومت سے اپنا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریاستی درجہ بحال ہونے تک پرامن جمہوری جدوجہد جاری رہے گی، جبکہ مظاہرین نے شہر بھر میں نعرے بازی اور پلے کارڈز کے ذریعے اپنا مطالبہ دہرایا۔

 کشتواڑ میں بھی کیا گیا احتجاج 

کشتواڑ میں نیشنل کانفرنس نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر پارٹی دفتر کے باہر احتجاج کیا اور مرکزی حکومت سے پارلیمنٹ میں کیے گئے وعدے پر عمل درآمد کا مطالبہ دہرایا۔ضلعی صدر تنویر احمد کچلو کی قیادت میں کارکنوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاست کا درجہ واپس دیا جائے۔

 پلوامہ میں  این سی کارکنوں کا احتجاج 

پلوامہ میں نیشنل کانفرنس کے کارکنوں نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر احتجاجی مارچ کیا، جہاں پولیس نے مظاہرین کو پارٹی دفتر پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔یوتھ لیڈر جاوید رحیم بٹ نے ریاستی درجہ بحالی کو عوام کا دیرینہ جمہوری مطالبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج پُرامن انداز میں جاری رہے گا۔

 کپواڑہ میں ریاستی درجہ کی بحالی کا احتجاج 

جموں و کشمیر کے ریاستی درجے (اسٹیٹ ہُڈ) کی بحالی کے مطالبے کو لے کر آج ضلع ہیڈکوارٹر کپوارہ میں ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ یہ احتجاج جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) کے ضلعی صدر اور ایم ایل اے لولاب، قیصر جمشید لون صاحب کی ہدایات پر منعقد کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں ضلع بھر سے نیشنل کانفرنس کے کارکنان، عہدیداران، نوجوان رہنما اور حامیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جس سے ریاستی درجے کی بحالی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے پارٹی کے متحدہ موقف کا اظہار ہوا۔ اس پُرامن احتجاج کی قیادت ضلعی جنرل سیکریٹری جی ایم راہتر نے کی۔

 جنترمنتر پر احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی 

عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا کہ انہیں جنتر منتر جانے سے روک دیا گیا اور پرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی گئی، لیکن ان کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے کہا: "ریاستی درجے، اپنے حقوق، عزت اور ہم سے چھینی گئی ہر چیز کی بحالی کے لیے ہماری جدوجہد کا یہ صرف آغاز ہے۔" احتجاج میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری سمیت کئی سینئر رہنما شریک ہوئے۔ احتجاج کے دوران "ہمیں ریاست کا درجہ دو" کے نعرے گونجتے رہے۔

کانگریس بھی احتجاج میں شامل

کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی غلام احمد میر اور طارق حمید قرہ بھی احتجاج میں شامل تھے۔ تاہم پچاس سے زائد سیاسی جماعتوں کو احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دیے جانے کے باوجود کانگریس کے بغیر کسی بھی سیاسی جماعت نے ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں این سی کے احتجاج میں شرکت نہیں کی۔

فاروق عبداللہ احتجاج میں شامل 

این سی صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ  بھی  کچھ ہی دیر احتجاج میں شریک رہے۔ بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس مکمل ریاستی درجے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔" انہوں نے کہا کہ "پارٹی رہنما صرف وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو ان کے اس وعدے کی یاد دلانے دہلی آئے ہیں جو انہوں نے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیا تھا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ  "ہم آج مکمل ریاستی درجے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا وعدہ ہے، اس لیے ہم ان سے اس وعدے کو پورا کرنے اور مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔"

 سی جےپی احتجاج کی تائید

فاروق عبداللہ نے تعلیمی اصلاحات اور نیٹ پرچہ لیک معاملے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر 'سنسد چلو' مارچ کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی بھی حمایت کی اور کہاکہ "یہ بچے بھارت کا مستقبل ہیں۔ وہ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حکومت ہند کو ان کے مطالبات پر توجہ دینی چاہیے۔ ساتھ ہی لداخ کے مسائل بھی حل کیے جائیں اور سونم وانگچک کو اسپتال سے رہا کیا جائے۔"