بھارت میں گائے کو قومی جانور یا خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ دہائیوں سے کیا جا رہا ہے، لیکن اس مرتبہ عیدالاضحیٰ سے قبل مسلم برادری کی جانب سے اس مطالبے نے ایک نئی مہم کی شکل اختیار کر لی ہے۔ مسلم علما اور عمائدین نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ مسلم کمیونٹی گائے کی قربانی نہیں کرے گی۔ اس مہم میں مسلم برادری کے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور سیاسی رہنما بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں اتر پردیش کے بھوگنی پور میں مسلم نوجوانوں کے ایک وفد نے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنند سرسوتی سے ملاقات کر کے انہیں ایک میمورنڈم سونپا، جس میں گائے کو قومی درجہ دینے کی مانگ کی گئی ہے۔
مسلم نوجوانوں کا مؤقف ہے کہ گائے کا تحفظ کسی ایک مخصوص مذہب کا نہیں، بلکہ بھارتی ثقافت، ماحولیات اور دیہی معیشت سے جڑا ہوا مشترکہ معاملہ ہے۔ کانپور دیہات کے بھوگنی پور علاقے کے مسلم نوجوانوں نے شنکراچاریہ جی سے ملاقات کر کے گائے کو 'قومی جانور'کا درجہ دینے کی پرزور وکالت کی ہے۔
میمورنڈم کے اہم نکات اور مطالبات:
'مسلم یووا سماج' کے کنوینر محمد عباد الحسن کی قیادت میں دیے گئے اس میمورنڈم میں گائے کے تحفظ اور اس کی نسل کو بچانے کے حوالے سے اہم مطالبات رکھے گئے ہیں،جن میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں قدیم زمانے سے ہی گائے کو عقیدت، خدمت اور ہمدردی کی علامت مانا گیا ہے۔ گائے صرف مذہبی عقیدے کا موضوع نہیں ہے، بلکہ یہ زراعت، ماحولیاتی تحفظ، دیہی معیشت اور انسانی زندگی کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔
وفد نے پورے ملک میں گائے کے ذبیحہ پر سخت اور مؤثر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ بے سہارا اور لاوارث گائے کے تحفظ اور ان کے علاج معالجے کے لیے ہر ضلع میں مناسب اور فعال گوشالاؤں (گائے کے پناہ گاہوں) کا انتظام یقینی بنایا جائے۔
اسکے علاوہ گائے کی نسل کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین بنانے کے ساتھ ساتھ گائے پر مبنی زراعت، نامیاتی کھاد (Organic Fertilizer) اور قدرتی مصنوعات کو فروغ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
سماجی ہم آہنگی کی منفرد مثال:
مسلم نوجوانوں کے وفد نے شنکراچاریہ سے خصوصی درخواست کی ہے کہ وہ ان کے جذبات اور مطالبات کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ مسلم برادری کی طرف سے کی جانے والی یہ پہل ملک میں سماجی ہم آہنگی، باہمی بھائی چارے اور ہندوستانی ثقافتی اقدار کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔