اسرائیل گزشتہ 78 سالوں سے فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ اقوام متحدہ (UN) کی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی جیلوں اور حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ شدید تشدد اور جنسی ہراسانی کی گئی۔ سلام ٹی وی کے ویب پورٹل کے مطابق؛اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں زبردستی برہنہ کیا گیا اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ قیدیوں کے ساتھ ریپ (عصمت دری) بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے دفتر کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سلام ٹی وی نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے حوالہ سے لکھا کہ ، سال 2025 کے دوران فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد کے کم از کم 31 تصدیق شدہ معاملات کی نشان دہی کی گئی۔ ان میں ریپ، ریپ کی کوشش، نازک اعضاء پر تشدد، زبردستی کپڑے اتروانا، توہین آمیز تلاشی اور جنسی تشدد جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی معاملات میں مردوں اور نوعمر لڑکوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ خاتون قیدیوں کو ریپ کی دھمکیاں اور جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں کیا گیا بڑا دعویٰ:
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ واقعات اسرائیلی جیلوں، حراستی کیمپوں اور تفتیشی مراکز میں پیش آئے۔ ان میں سدے تیمان، عتزیون ڈیٹینشن سینٹر، میگڈو، اوفر، رملہ اور نفحہ جیسی جیلوں کے نام لیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے یہ بھی کہا کہ کچھ متاثرین صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی تھے۔ یو این رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ اسرائیلی حکام نے تفتیش کاروں کو مناسب رسائی نہیں دی، جس سے کئی معاملات کی آزادانہ تحقیقات متاثر ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے دفتر کی طرف سے کہا گیا کہ حراست میں رکھے گئے لوگوں کے ساتھ جنسی تشدد اور توہین آمیز سلوک کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسرائیل نے اقوام متحدہ سے تعلقات ختم کیے
رپورٹ عوامی ہونے کے بعد اسرائیل نے سخت ردعمل دیا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے کہا کہ اسرائیل اب سیکریٹری جنرل کے دفتر کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فوجیوں کو حماس جیسے تنظیموں کے ساتھ ایک ہی فہرست میں رکھنا ناانصافی اور توہین آمیز ہے۔ اسرائیل کے خارجہ وزارت نے اس رپورٹ کو بے بنیاد کہا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ مسلسل اسرائیل کو نشانہ بناتا ہے اور اب وہ ایک سیاسی اور جانبدار ادارہ بن چکا ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ جب تک نیا سیکریٹری جنرل مقرر نہیں ہوتا، تب تک وہ گوٹیرس کے دفتر کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرے گا۔
تاہم اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ کا دفاع کیا ہے۔ سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے صاف کہا کہ رپورٹ حقائق اور تفتیش کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔